Javed Chaudhry columnsیہ آخر کب تک ہوتا رہے گا2020

ا
  منگل‬‮ 21 جنوری‬‮ 2020  | 

 Javed Chaudhry columnsیہ آخر کب تک ہوتا رہے گا

ظہیر الدین بابر نے کسی سے کہا تھا” میری زندگی بس اڑھائی دن ہے“ پوچھنے والے نے پوچھا ”بادشاہ معظم کیا مطلب“ بابر نے جواب دیا ” میں سمر قند سے افغانستان بھاگ رہا تھا‘ راستے میں تھکاوٹ ہوئی‘ گھوڑا باندھا اور درخت کے نیچے سو گیا‘ مجھے اچانک اپنا جسم کسا ہوا محسوس ہوا‘ آنکھ کھولی تو دیکھا ایک بہت بڑے اژدھے نے مجھے کس لیا ہے اور یہ مجھے منہ کھول کر نگلنے کی تیاری کر رہا ہے‘ میرے پاس دو راستے تھے‘ میں خود کوموت کے حوالے کر دوں یا پھر زندگی کے لیے لڑوں‘ میں نے لڑنا شروع کر دیا۔ موٹیویشنل کتابیں

اژدھا طاقت ور تھا اور میں کم زور‘ میں سارا دن اس کے ساتھ لڑتا رہا یہاں تک کہ میں جیت گیا اورمیں
نے اژدھے کو مار دیا‘ میں اسے زندگی کا ایک دن سمجھتا ہوں‘ دوسرا دن اس سے بھی مشکل تھا‘ میرے جسم پر خارش نکل آئی‘ میں سر سے لے کر پاﺅں تک خارش زدہ تھا‘ میںکپڑوں کو چھو تک نہیں سکتا تھا‘ سارا دن جسم پر مالش کر کے دھوپ میں لیٹا رہتا تھا‘ میرے دشمن شیبانی خان کو میری بیماری کا پتا چلا تو وہ عیادت کے لیے پہنچ گیا‘ میں نہیں چاہتا تھا وہ مجھے بیماری کے عالم میں ننگا دیکھے لہٰذا میں نے طبیبوں کے روکنے کے باوجود شاہی لباس پہنا اور آگے بڑھ کر اس کا استقبال کیا‘ وہ سارا دن میرے پاس رہا‘ میرے پورے جسم پر خارش ہو رہی تھی‘ مجھے لگتا تھا میں نے انگاروں کا لباس پہن رکھا ہے لیکن میں نے اس کے باوجود اپنے جسم کے کسی حصے پر خارش نہیں کی‘ وہ جوں ہی محل سے نکلا‘ میں نے اپنے سارے کپڑے اتار دیے‘ میرا پورا جسم لہو لہان ہو چکا تھا‘ وہ میری زندگی کا دوسرا دن تھا“ وہ رک گیا‘ پوچھنے والے نے پوچھا ”اور آدھا دن“ بابر نے ہنس کرجواب دیا ”میری ساری فتوحات اور بادشاہت صرف آدھے دن کے برابر ہیں“۔ہم اسے اقتدار کا بابری فارمولا کہہ سکتے ہیں اور اس فارمولے کے مطابق اڑھائی دن کی اس زندگی میں اقتدار کی حیثیت آدھے دن سے زیادہ نہیں ہوتی‘ باقی زندگی صرف اور صرف برداشت ہے اور برداشت حکمرانوں کا اثاثہ ہوتی ہے۔ انسائیکلوپیڈیا کتب

آپ اگر برداشت نہیں کر سکتے اور آپ اگر اپنی سوچ‘ اپنے فیصلوں‘ اپنی نفرت‘ اپنی خارش اور اپنی پسند کو دوسروں سے چھپا نہیں سکتے تو پھر آپ حکومت کے قابل نہیں ہوتے‘ آپ پھر عام آدمی سے بھی کم زور ہیں‘ میں اکثر لیڈر شپ کے سیشنز میں امریکی صدر جان ایف کینیڈی کا واقعہ سناتا ہوں‘ کینیڈی کے والد جوزف پیٹرک کینیڈی امریکا کے مشہور بزنس مین اور سفارت کار تھے‘ وہ برطانیہ میں امریکا کے سفیر بھی رہے‘ وہ انتہائی سمجھ دار اور زیرک انسان تھے۔ شاعری کتب

جان ایف کینیڈی صدر بننے کے بعد اپنے والد سے ملنے گیا اور ان سے کہا ”میں ایک مخمصے کا شکار ہوں“ والد کتاب پڑھ رہا تھا‘ اس نے سر اٹھا کر پوچھا ”کیا مطلب“ کینیڈی نے جواب دیا ”میرے بے شمار معاشقے ہیں‘ میں صدر بن چکا ہوں‘ میں اب ہر وقت ایجنسیوں اور میڈیا کی نظروں میں رہوں گا‘ مجھے خطرہ ہے میں اپنے معاشقوں کو زیادہ دیر تک میڈیا‘ ایجنسیوں اور اپنی بیوی سے خفیہ نہیں رکھ سکوں گا“ والد نے قہقہہ لگایا اور کہا ” تمہیں فوراً استعفیٰ دے دینا چاہیے“۔

کینیڈی نے حیران ہو کر پوچھا ”کیوں؟“ والد نے جواب دیا ”جو شخص اپنے معاشقے میڈیا‘ ایجنسیوں اور بیوی سے نہیں چھپا سکتا اسے امریکا جیسی سپر پاور کا صدر نہیں ہونا چاہیے“ یہ ہوتے ہیںسیاست دان‘ یہ ہوتے ہیں حکمران یعنی آپ اپنی بیوی کو بھی اپنی سوچ کی ہوا نہ لگنے دیں جب کہ ہمارے ملک میں کیا ہو رہا ہے؟ ہمارے ملک میں آبی وسائل کے وفاقی وزیر فیصل واوڈا14 جنوری کو کاشف عباسی کے پروگرام میں سیاہ بوٹ لے کر آ گئے‘ وفاقی وزیر نے وہ بوٹ میز پر رکھا اور بوٹ دکھا دکھا کر کہا ”پاکستان مسلم لیگ ن نے لیٹ کر اور اسے چوم کر ووٹ کو عزت دی“۔

ان کا اشارہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کی طرف تھا اور ان کے کہنے کا مطلب تھا ”ن لیگ نے بوٹ کی وجہ سے ووٹ دیا“ فیصل واوڈا کی یہ حرکت پورے ملک میں پھیل گئی اور میڈیا‘ حکومت ‘ اداروں اور عوام کی طرف سے رد عمل آنے لگا‘ ملک کے تمام صحافیوں‘ اینکرز اور سیاست دانوں نے کھل کر مذمت کی لیکن وزیراعظم نے 24 گھنٹے بعد واوڈا صاحب کو ہلکا سا ”ڈس پلیر“ شو کیا‘ یہ واقعہ اس قدر قابل افسوس اور ناقابل برداشت تھا کہ حکومت کا کوئی ترجمان اسے ڈیفنڈ کرنے کے لیے تیار نہیں تھا بہرحال دباﺅ آیا اور خوف ناک آیا اور یہاں تک آیا کہ پیمرا نے 15 جنوری کی شب کاشف عباسی اور ان کے پروگرام پر دو ماہ کے لیے پابندی لگا دی۔

یہ پابندی بھی میڈیا میں کنٹرو ورشل ہو گئی‘ میڈیا نے جب بار بار کہنا شروع کر دیا‘ آپ نے مجرم چھوڑ دیا اور جائے واردات کو سزا دے دی تو وزیراعظم نے فیصل واوڈا پر پندرہ دن کے لیے میڈیا میں آنے پر پابندی لگا دی‘ آپ ذرا سزا ملاحظہ کیجیے‘پندرہ دن کی پابندی اور وہ بھی میڈیا میں آنے پر! واہ کیا بات ہے چوپٹ راج کی۔یہ بظاہر چھوٹا سا واقعہ تھا لیکن یہ واقعہ اپنے منہ سے بے شمار حقائق بتا رہا ہے‘ حکومت کو اب یہ ماننا ہوگااس کے وزراءصرف تجربے میں مار نہیں کھا رہے یہ عدم برداشت اور تہذیب کی کمی کے شکار بھی ہیں۔

یہ گفتگو کے دوران بھی عقل کھو بیٹھتے ہیں اور یہ اپنی حرکتوں سے بھی حیران کر دیتے ہیں‘ آپ کسی وزیر کو دیکھ لیں یہ آپ کو دفتروں‘ میٹنگز‘ پریس کانفرنسوں اور لائیو ٹیلی ویژن شوز میں موبائل فون پر مصروف نظر آئے گا‘ یہ لوگ سفیروں اور غیر ملکی وزراءکے ساتھ بھی میز پر آمنے سامنے بیٹھ کر ملاقات کرتے ہیں‘ آج تک کسی نے ان کو یہ نہیں بتایا میز پر آمنے سامنے بیٹھنا سفیر یا مہمان وزیر کی بے عزتی ہوتی ہے‘ وزیراعظم بھی روز یہ غلطی کرتے ہیں‘ یہ مہمان وزراءکو بھی بنی گالہ بلوا لیتے ہیں۔

بنی گالا میں گارڈز پوسٹ کے ساتھ دو نئے کمرے بن گئے ہیں‘ وزیراعظم مہمانوں کو وہاں ملتے ہیں‘ گارڈز نے باہر شلواریں دھو کر لٹکائی ہوتی ہیں‘ اومان کے مذہبی امور کے وزیرشیخ عبداللہ بن محمد7 جنوری کوپاکستان کے دورے پر آئے‘ انہیں بھی بنی گالا بلا لیا گیا‘ وزیراعظم اس وقت لان میں دھوپ سیک رہے تھے‘ انہوں نے کوٹ کے نیچے جیکٹ پہن رکھی تھی اور دائیں بائیں عام سی کرسیاں پڑی تھیں‘ اومانی وزیرکو انہی کرسیوں پر بٹھا دیا گیا اور ہلکی پھلکی بات چیت کر کے روانہ کر دیا گیا۔

میں اس میں وزیراعظم کو ذمہ دار نہیں سمجھتا‘ یہ زندگی میں پہلی بار وزیراعظم بنے ہیں‘ یہ پروٹوکول کو نہیں سمجھتے‘ وزیراعظم کو سمجھانا پروٹوکول ڈیپارٹمنٹ کا کام ہے‘ یہ انہیں بتائیں مہمان کیا ہوتے ہیں اور ہمیں ان کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے‘ ہم ایک طرف پوری دنیا سے بھیک مانگ رہے ہیں اور دوسری طرف ہم مہمان وزیروں اور سفیروں کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں‘ ہمیں عقل سے کام لینا چاہیے‘ دوسرا پروٹوکول ڈیپارٹمنٹ کو کابینہ کو بھی بریف کرنا چاہیے‘ یہ وزراءکو بھی بولنے‘ چلنے‘ اٹھنے بیٹھنے اور میڈیا کے سامنے آنے کا طریقہ بتائیں۔

یہ وزراءجو چاہتے ہیں بول دیتے ہیں اور جو چاہتے ہیں کر گزرتے ہیں اور اس کی قیمت بعد ازاں ملک کو ادا کرنی پڑتی ہے‘ ہم ایک طرف پوری دنیا میں اکیلے ہو چکے ہیں‘ دوسری طرف ہم اندرونی نفاق کا شکار ہیں اور تیسری طرف پورا ملک اس وقت قبض کا شکار ہے‘ بیورو کریسی کام نہیں کر رہی‘ آپ کسی ادارے کے بورڈ کی ایک سال کی کارکردگی دیکھ لیں آپ کو بورڈ کا ہر فرد اختلافی نوٹ لکھتا نظر آئے گا‘ میں دل سے سمجھتا ہوں حکومت نے اس دن بیورو کریسی کے ہاتھ باندھ دیے تھے جس دن فواد حسن فواد اور احد چیمہ گرفتار ہوئے تھے۔

ہم فواد حسن فواد سے لاکھ اختلاف کر سکتے ہیں لیکن ان کی مہارت اور حب الوطنی پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی‘ سی پیک اور میاں نواز شریف کی اکنامک پالیسی یہ دونوں فواد حسن فواد کا کمال تھا‘ احد چیمہ نے بھی دو دو سال کے منصوبے ایک ایک سال میں مکمل کر کے ریکارڈ قائم کر دیا لیکن آج افسر جب ان کا حشر دیکھتے ہیں تو یہ کام سے توبہ کر لیتے ہیں‘ افسر شاہی کی حالت یہ ہے کوئی بھی اچھا بیورو کریٹ کسی اہم پوزیشن پر تعیناتی کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

یہ لوگ کسی بڑے منصوبے کی اجازت تک نہیں دیتے‘ یہ کراکری خریدنے کی فائل بھی وزیراعظم کو بھجوا دیتے ہیں‘ فضول سے فضول ایشو بھی کابینہ میں پہنچ جاتا ہے اور کابینہ سے منظوری کے بعد بھی اس پر عمل نہیں ہوتا‘ یہ صورت حال اس وقت تک قائم رہے گی جب تک احد چیمہ اور فواد حسن فواد باہر نہیں آتے‘ بیورو کریٹس اس سے پہلے کام نہیں کریں گے اور اوپر سے وزیراعظم بھی اناڑی سرجن کی طرح 25 مریضوں کے سینے کھول کر بیٹھ گئے ہیں چناں چہ معیشت سے لے کر ماحولیات تک سارے مریض اس وقت آخری سانسیں لے رہے ہیں اور آپ مزید انتہا دیکھیے فیصل واوڈا بوٹ لے کر لائیو شو میں آ جاتے ہیں۔

حکومت آخر کرنا کیا چاہتی ہے؟ یہ لوگ کہیں اس ملک سے انتقام تو نہیں لے رہے؟یہ سلوک تو کوئی دشمن کے ساتھ بھی نہیں کرتا‘ ہم بھی کیا لوگ ہیں‘ ہم نے پورا ملک اٹھا کر ایسے ناتجربہ کاروں‘ غیر تہذیب یافتہ اور متکبر لوگوں کے حوالے کر دیا جو سٹوڈیو کی میز پر بوٹ رکھ کر کہتے ہیں یہ لوگ اس بوٹ کو چاٹتے رہے‘ چومتے رہے اور پھر جب ردعمل آتا ہے تو یہ کہتے ہیں ”کیا ہم نے غلط کہا“ یہ معذرت تک کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے‘ یہ کیا ہو رہا ہے اور یہ آخر کب تک ہوتا رہے گا؟کیا ملک میں کسی کے پاس اس سوال کا جواب ہے!

Al Quran ul Kareem 16 Lines Darussalam القرآن الکریم سولہ سطری دارالسلام

Download (Size 323MB)
Link 1  Link 2

Read Online
Para (Chapter) 01    Para (Chapter) 02
Para (Chapter) 03    Para (Chapter) 04
Para (Chapter) 05    Para (Chapter) 06
Para (Chapter) 07    Para (Chapter) 08
Para (Chapter) 09    Para (Chapter) 10
Para (Chapter) 11    Para (Chapter) 12
Para (Chapter) 13    Para (Chapter) 14
Para (Chapter) 15    Para (Chapter) 16
Para (Chapter) 17    Para (Chapter) 18
Para (Chapter) 19    Para (Chapter) 20
Para (Chapter) 21    Para (Chapter) 22
Para (Chapter) 23    Para (Chapter) 24
Para (Chapter) 25    Para (Chapter) 26
Para (Chapter) 27    Para (Chapter) 28
Para (Chapter) 29    Para (Chapter) 30

Orya Maqbool Jan Columns 2020

Orya Maqbool Jan Columns Maut Se Kisko Rastgari Hai جو موت سے مرا ہے

وہ مالکِ حقیقی، مختارِکل جس نے موت و حیات کو تخلیق کیا اورپھر ان دونوں کے درمیان ایک مختصر سی زندگی رکھ دی، تاکہ وہ جان سکے کہ کون اس مہلت کے دوران اچھے اعمال کرتا ہے۔ اسی فرماں روا کا فرمان ہے، ” تم جہاں بھی ہو گے تمہیں موت پالے گی چاہے تم پختہ قلعوں میں ہی کیوں نہ ہو (النسائ:78)۔ انسان کی زندگی بھر کی تگ و دو اور دوڑ دھوپ صرف اور صرف اس ایک المیہ پر قابوپانے کے گرد گھومتی ہے جسے ”موت” کہتے ہیں۔ کوئی بھی اس رنگا رنگ دنیا کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ لاکھوں طالبانِ علم و تحقیق اپنی تمام تر توانائیاں اس منصوبے پر مسلسل صرف کررہے ہیں کہ کیسے انسان مکمل صحت و توانائی کے ساتھ لمبی سے لمبی زندگی گزار سکتا ہے۔ لیکن آج اکیسویں صدی کے انسان کو موت کا خوف صرف اس وجہ سے نہیں ہے کہ وہ بڑھاپے، بیماری، ایکسیڈنٹ یا کسی وبا کے ہاتھوں ہلاک ہوجائے گا، بلکہ اس کے خوف میں اب ایک بہت ہی ہیبت ناک بلا اور عفریت شامل ہو چکی ہے۔ یہ کوئی قدرتی آفت، آسمانی بلا یا مافوق الفطرت مخلوق نہیں ہے۔ یہ انسان کے اپنے ہاتھوں سے تخلیق کیا گیا موت کا سامان۔۔۔ ایٹمی ہتھیار ہیں۔ ہیروشیما اور ناگاساکی میں ان کی تباہی سے لیکر اب تک اس ظالم انسان نے انکی تعداد میں اتنا اضافہ کرلیا ہے کہ اب حکومتوں کے پاس اس کرہ ارض کو کئی بار تباہ کرنے کا سامان میسر ہو چکا ہے۔ انسان اپنی جنگجو، منتقم مزاج اور ظالم فطرت سے خوفزدہ بھی بہت ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کھوپڑیوں کے مینار بنانے والا اور لاشوں کے انبار پر تخت سجانے والا یہ انسان اس قدر ظالم ہے کہ کسی بھی وقت صرف ایک ایٹمی بٹن دبا کر پوری دنیا کو خس و خاشاک کا ڈھیر بنا سکتا ہے۔

ہیروشیما اور ناگاساکی پر 6 اور 9 اگست 1945ء کو ایٹم بم برسانے کے صرف 19 سال بعد 28 جنوری 1964ء کو نیویارک ٹائمز میں ایک خبر شائع ہوئی کہ امریکہ کے لوگ ایٹمی جنگ سے بچنے کے لیے نیوزی لینڈ منتقل ہو رہے ہیں۔ ان میں زیادہ تر پڑھے لکھے لوگ شامل تھے۔ ان افراد کے مطابق سائنسی تحقیق انہیں بتاتی تھی کہ نیوزی لینڈ وہ واحد خطہ ہے جس کا محلِ وقوع ایسا ہے کہ اگر دنیا میں ایٹمی جنگ چھڑ بھی جائے تو اوّل تو یہاں اس کے اثرات نہیں پہنچیں گے اور اگر پہنچ بھی جایئں تو بہت کم ہوں گے۔ اخبار نے لاتعداد نقل مکانی کرنے والوں کے انٹرویو بھی شائع کیے تھے جو آدھی سے بھی کم تنخواہ پر یہاں آکر کام کر رہے تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ اب اس ایٹمی بخار میں مبتلا دنیا سے بہت دور آ چکے ہیں۔ بہت سے ایسے تھے جو قریبی آسٹریلیا میں بھی منتقل ہوچکے تھے۔ امریکیوں کی محفوظ پناہ گاہ کے طور پر نیوزی لینڈ منتقلی کی یہ خبر جو آج سے 66 سال پہلے شائع ہوئی تھی آج وہی موضوع ایک بار پھر زیر ِ بحث ہے۔ اس وقت لوگوں کے دماغ میں صدرکینیڈی والا کیوبا کا میزائل بحران تازہ تھا اور امریکی سمجھتے تھے کہ ہم ایٹمی جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں سے ہجرت شروع ہو گئی۔ آج بھی بالکل ویسی ہی کیفیت ہے اور دنیا میں اب یہ سنجیدہ بحث چل نکلی ہے کہ دنیا میں اقتدار اور وسائل پر قابو پانے کی ہوس بڑھنے کی وجہ سے ایٹمی جنگ شروع ہونیوالی ہے ایسے میں زندگی بچانے کے لئے سب سے محفوظ خطہ کونسا ہے۔ اس کا جواب دنیا بھر کے سائنسدان وہی دے رہے ہیں کہ یہ خطہ نیوزی لینڈ ہے اور اس کے بعد آسٹریلیا۔ نیوزی لینڈ کو ایٹمی جنگ کے دوران انتہائی محفوظ علاقے سے تعبیر کیا جا رہا ہے جسے ”Bolt hole” کہا جاتا ہے۔ اس خطے کو دنیا کے مختلف ایٹمی جنگوں کے متنازعہ علاقوں میں چھڑنے والی ممکنہ جنگوں کے اثرات کے تناظر میں پرکھا گیا ہے۔ ان جنگوں میں بھارت پاکستان ایٹمی جنگ، جس میں کم از کم دونوں جانب سے پچاس ایٹمی ہتھیاروں کے چلنے کا خطرہ ہے۔ روس اور یورپ کی جنگ، جاپان اور شمالی کوریا کی جنگ وغیرہ۔ ان میں سے کسی بھی ایک جنگ کی صورت زمین کی فضا 100 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم ہوجائے گی اور” اوزون پردے” کا بیشتر حصہ تباہ ہو جائے گا۔ اس پردے کے دوبارہ تخلیق پانے میں کم از کم دس سال لگ سکتے ہیں۔ یوں الٹرا وائلٹ شعاوں کے زمین پر براہ راست آنے سے فصلیں اور آبی حیات ختم ہو جائیں گی۔ لیکن سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ فضا میں کاربن کی ایک وسیع مقدار جمع ہوجائے گی جو سورج کی شعاعوں کو زمین تک پہنچنے سے روک دے گی۔ یوں دنیا پر ایک مسلسل اور مستقل سرد موسم چھا جائے گا۔ فصلیں نہیں پک سکیں گی اور درخت سردی سے جل جائیں گے۔ ایسا سرد موسم کم از کم دس اور زیادہ سے زیادہ چالیس سال تک طویل ہو سکتا ہے۔ یوں اگر دنیا پر کہیں لوگ بچ بھی جائیں گے تو وہ بھوک سے مر جائیں گے۔

جس وقت زمین پر ایٹمی جنگ کی تباہ کاریاں اپنے عروج پر ہوں گی، اس وقت نیوزی لینڈ ہی وہ واحد خطہ ہوگا جس کا محلِ وقوع ایسا ہے کہ وہاں اس جنگ کے تابکاری اثرات نہیں پہنچ سکیں گے۔ سب سے خطرناک اور مضبوط ”آئسوٹوپ” (Isotope) بھی نیوزی لینڈ کے ساحلوں پر پہنچنے سے پہلے ہی تباہ ہو چکا ہو گا۔ اس کے علاوہ اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ اگر پوری دنیا بیک وقت ایٹمی جنگ کا شکار ہوگئی اور ہر کسی نے اپنا ایٹمی خزانہ استعمال کر دیا تو پھر کیا ہوگا۔ اس ضمن میں لاتعداد سائنسدانوں نے دنیا کی بے شمار یونیورسٹیوں میں تحقیق کرنے کے بعد بتایا ہے کہ پھر بھی آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے سمندروں میں آبی حیات زندہ رہ سکے گی اور یہ سمندری حیات پہلے چھ ماہ سے ایک سال تک انسانوں کووافر خوراک فراہم کرے گی۔ اس کے بعد فضا میں جو تھوڑا بہت سرد موسم چھایا ہوگا اور فصلیں نہیں پک رہی ہوں گی، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں وہ بھی ختم ہوجائے گا اور یہ دونوں ملک اپنے رہنے والوں کے لئے مناسب خوراک پیدا کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ ایسے حالات کے حوالے سے ایک اور خطرے کے بارے میں بھی بہت زیادہ سوچا اور لکھا جا رہا ہے اور وہ ہے دنیا سے بھاگ کر آنے والے امیروں کے غول، جنہیں وقت سے پہلے ہی اندازہ ہوجائے گا کہ جنگ چھڑنے والی ہے اور وہ اپنا تمام مال و متاع آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں منتقل کر کے یہاں کے وسائل پر پہلے سے قابض ہو جائیں گے۔ ایک اور کیفیت بھی ہے کہ اگر ایٹمی جنگ مرحلہ وار ہوئی تو پھر ایک خطے سے بچ نکلنے والے انسان ٹڈی دل کی طرح آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ پر حملہ آور ہو جائیں گے۔ ایسے میں بھوکے انسانوں کے غول جو تباہی اور قتل و غارت مچائیں گے وہ بھی کسی ایٹمی جنگ سے کم نہ ہوگی۔

انسان موت سے بچنے کی لا تعداد تدبیریں کرتا ہے اور ان دنوں ایٹمی جنگ کے خوف سے ان تدبیروں میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ اور آس پاس کے جزائر کو محفوظ جنت کے طور پر تصور کیا جاتا ہے اور انسان آہستہ آہستہ وہاں منتقل بھی ہو رہا ہے۔ لیکن میرا اللہ جو پوری کائنات پر محیط ہے، جس کا دعوی ہے کہ یہ دنیا ایک دن لپیٹ دی جائے گی اور پھر تمام انسان دوبارہ زندہ ہو کر اس کے روبرو پیش ہوں گے، وہ انسانوں کو انکی اوقات یاد دلانے کے لیے وارننگ کے طور پر اپنی نشانیاں ظاہر کرتا ہے۔ آج جب نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے بارے میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ یہ محفوظ پناہ گاہیں ہیں، میرے اللہ نے اس خطے کو ایک تاریخی آگ کی لپیٹ میں دے دیا ہے۔ دسمبر 2019ء میں میں لگنے والی آگ سے چار کروڑ ساٹھ لاکھ ایکڑاراضی اور ایک لاکھ چھیاسی ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ جل کر خاکستر ہو گیا۔ 80 کروڑ جانور صرف نیو ساؤتھ ویلز کے علاقے میں مارے گئے جبکہ پورے آسٹریلیا میں ایک ارب جانور جل کر کباب ہو گئے۔ اس کے نتیجے میں 32 کروڑ ٹن کاربن فضا میں پھیلی جسے فضا سے ختم ہونے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ انسان خود ساختہ موت سے بچ کر اپنے لیے محفوظ پناہ گاہوں پہنچ تو جاتا ہے لیکن وہ اللہ جو ہر چیز پر قادر ہے، اس انسان کے دروازے پر موت کے فرشتے کو لاکھڑا کرتا ہے

Javed Chaudhry columns یہ صرف قبر نہیں

یہ صرف قبر نہیںJaved Chaudhry columns  جمعہ‬‮ 17 جنوری‬‮ 2020 |  0:01

وہ ایک عام سی قبر تھی‘ مٹی کی ڈھیری ‘ قبر کے قریب سبز رنگ کی دو گندی سی بالٹیاں پڑی تھیں اور مٹی کو بہنے سے بچانے کے لیے قبر کے دائیں بائیں سفید ماربل کے پیس رکھ دیے گئے تھے اور بس‘ قبر کے گرد چار دیواری تھی‘ جنگلا تھا اور نہ ہی مزار تھا‘ میرے دوست نے قبر کی تصویر مجھے بھجوا دی‘ میں نے تصویر کو موبائل پر بڑا کر کے دیکھا تو نیچے لکھا تھا ”اومان کے سلطان قابوس کی قبر‘ یہ ہے زندگی کی اصل حقیقت“ تصویر بھیجنے والا شاید مجھے زندگی کی بے ثباتی سمجھانا چاہتا تھا لیکن میں یہ تصویر دیکھ کر ہنس پڑا‘ کیوں؟

کیوں کہ میں جانتا تھا میرا دوست بھی دوسرے پاکستانیوں کی طرح غلط فہمی

کا شکارہے‘ یہ بھی اس قبر سے عبرت تلاش کر رہے ہیں جب کہ مٹی کی ڈھیری بے ثباتی یا عبرت کی نشانی نہیں ‘ یہ دنیا کے ایک نام ور حکمران کی سادگی‘ عظمت اور پرفارمنس کا عظیم شاہکار تھی‘ سلطان قابوس اور ان کی فیملی چاہتی تو وہ اس قبر کے گرد سونے کا مزار بنا سکتی تھی‘ یہ لوگ سلطان مرحوم کی قبر کو تاج محل بھی بنا سکتے تھے مگر یہ سلطان کی درویشی‘ سادگی اور حقائق پسندی کا مذاق ہوتا‘ سلطان قابوس کتنے بڑے انسان تھے آپ اس کا اندازہ صرف دو چیزوں سے لگا لیجیے‘ سلطان صاحب 1970ءمیں جس گاڑی پر اقتدار سنبھالنے کے لیے محل آئے تھے ان کی وصیت کے مطابق ان کی میت بھی اسی 50 سال پرانی گاڑی میں ان کی آخری آرام گاہ تک پہنچائی گئی اور یہ قبر بھی ان کی ہدایت پر سادہ اور عام رکھی گئی‘یہ اسے مزار نہیں بنوانا چاہتے تھے‘ یہ تھے سلطان قابوس۔سلطان قابوس بن سعید جولائی 1970ءمیں اومان کے بادشاہ بنے‘ اومان اس وقت خلیج کا پسماندہ ترین ملک تھا‘ پورے ملک میں صرف تین سڑکیں تھیں‘ بجلی اور ہسپتالوں کا نام تک نہیں تھا‘ پورے ملک میں کوئی تعلیمی ادارہ اور کوئی منڈی نہیں تھی‘ ملک قبائل میں تقسیم تھا اور تمام قبائل ایک دوسرے کے ساتھ برسر پیکار تھے اور اومانی باشندے دوسرے ملکوں میں مزدوری کرتے تھے‘ سلطان قابوس نے بسم اللہ کی اور اومان کو بدلنا شروع کر دیا‘ یہ کس قدر وژنری حکمران تھے آپ اس کا اندازہ ان کے صرف ایک قدم سے لگا لیجیے۔

یہ اپنے مخالفین کو بلواتے تھے اور ان کے جوان بچوں کو حکومت کے خرچ پر اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا اور یورپ بھجوا دیتے تھے‘ یہ بچے جب دنیا دیکھ کر اور اعلیٰ تعلیم پا کر واپس آتے تھے تو یہ ریاست کے دشمن سے ریاست کے سب سے بڑے دوست بن چکے ہوتے تھے‘ یہ بچے آج حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں‘ اومان اس وقت خلیج کا پرامن ترین اور خوش حال ترین ملک ہے‘ آپ انصاف‘ تعلیم‘ علاج ‘ روزگار اور امن کسی بھی پہلو سے دیکھ لیں آپ کو اومان پورے خطے میں آگے ملے گا۔

مسقط اس وقت سنگا پور کے بعد دنیا کا صاف ترین شہر ہے‘ اومان خلیج کا واحد ملک ہے جس نے پارلیمنٹ اور حکومت میں خواتین کو 17 فیصد نمائندگی دی‘ آپ کو ہر حکومتی دفتر میں خواتین ملتی ہیں‘ سلطان کی پوری کابینہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے‘ وزراءآکسفورڈ‘ کیمبرج‘ ہارورڈ اور ہائیڈل برگ جیسی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہیں‘ مسجدوں کے امام بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں‘ آپ کسی گاﺅں کے مفتی سے بھی بات کر لیں‘ وہ بھی اپنے لہجے اور تہذیب سے آپ کو حیران کر دے گا‘ پوری اسلامی دنیا تقسیم ہے۔

ایران اور سعودی عرب کے اندر شیعہ سنی اختلافات انتہا کو چھو رہے ہیں‘ پاکستان کے حالات بھی آپ کے سامنے ہیں لیکن اومان میں کسی قسم کی مسلکی تقسیم ہے اور نہ ہی قبائلی‘ لوگ نماز تک ایک ہی مسجد میں ادا کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے آگے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھتے ہیں‘ آپ یونیورسٹیاں دیکھیں‘ آپ حیران رہ جائیں گے‘ آپ ہسپتال‘ سکول‘ کمیونٹی سنٹرز اور شاپنگ مالز دیکھیں‘ یہ بھی آپ کو حیران کر دیں گے اور آپ لوگوں کے رویے بھی دیکھ لیں۔

آپ ان کی شائستگی‘ تہذیب اور مہمان نوازی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے‘ آپ کو اگر موقع ملے تو آپ صرف مسقط کی جامع سلطان قابوس دیکھ لیں یا پھر مسقط کے اوپیرا ہاﺅس کا وزٹ کر لیں آپ کو دونوں ششدر کر دیں گے‘ آپ یہ فیصلہ نہیں کر سکیں گے سلطان نے اوپیرا ہاﺅس زیادہ اچھا تعمیر کیا یا پھر جامع مسجد اور آپ سڑکیں بھی دیکھ لیں‘ سلطان نے صحرا کے اندر تک سڑکیں پہنچا دیں اور یہ سارے کام ایک ہی سلطان کے دور میں ہوئے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے سلطان نے یہ سب کیسے کیا؟ وہ ایک بادشاہ تھے اور بادشاہ عموماً عوام کو سوچنے‘ بولنے اور علم حاصل کرنے کا موقع نہیں دیتے‘ سلطان قابوس پچاس سال بادشاہ رہے اور انہوں نے بادشاہی کے باوجود اپنے لوگوں‘ اپنے معاشرے کو کھول دیا‘ کیوں اور کیسے؟یہ سوال بہت اہم ہے اور ہم جیسے لوگوں اور معاشروں کے لیے اس میں روشنی کی بے شمار قندیلیں چھپی ہیں‘ سلطان قابوس کا پہلا کارنامہ امن تھا‘ سلطان نے 1970ءمیں فیصلہ کیا تھا یہ اسلامی دنیا کے کسی تنازع کا حصہ بھی نہیں بنیں گے اور یہ کسی کے ساتھ جنگ بھی نہیں کریں گے چناں چہ اومان پچاس سال میں کسی عالمی یا اسلامی تنازع میں فریق نہیں بنا۔

اس دوران ایران میں انقلاب آیا‘ افغان وار ہوئی‘ عراق اور ایران جنگ ہوئی‘ سنی اور شیعہ تنازع بنا‘ عرب ممالک میں ”انقلابی بہار“ آئی اور آخر میں یمن میں جنگ چھڑ گئی مگر اومان ہر معاملے میں نیوٹرل رہا‘ آپ سلطان قابوس کی ذہانت ملاحظہ کیجیے‘ اومان کی سرحدیں یمن‘ یو اے ای اور سعودی عرب سے ملتی ہیں‘ اومان کے تینوں ملکوں کے ساتھ سرحدی تنازعات بھی پیدا ہوئے لیکن سلطان قابوس نے لڑنے کی بجائے یو اے ای کے شیخ زید بن سلطان النہیان کو دعوت دی‘ نقشہ ان کے سامنے رکھا اوران سے کہا آپ اس پر لکیر لگا دیں‘ ہم اس لکیر کو سرحد مان لیں گے لیکن ہم آپ کے ساتھ لڑیں گے نہیں۔

شیخ زید نے نشان لگا دیا اور اومان نے اسے سرحد مان لیا‘تنازع ختم ہو گیا‘ یمن اور سعودی عرب کے ساتھ بھی سرحدی تنازعے اسی طرح سیٹل کیے گئے‘ سلطان کہتے تھے ”ہم ہمسایوں کے ساتھ لڑ کر امن سے نہیں رہ سکیں گے“ چناں چہ یہ بڑے سے بڑا ایشو بھی گفتگو کے ذریعے حل کرتے تھے‘ سلطان قابوس کے دور میں اومان نے خود جنگ کی اور نہ یہ کسی جنگ کا حصہ بنا‘ یہ ملک ہر دور میں ثالث رہا‘ یہ متحارب گروپوں کے درمیان صلح کراتا رہا‘یہ اس وقت بھی یمن کے دو اطراف کے زخمیوں کا ایک ہی ہسپتال میں علاج کرتے ہیں۔

یہ میرٹ پر بھی بے انتہا یقین رکھتے تھے‘ اومان میں پچھلے پچاس برسوں میں تمام عہدوں پر صرف اور صرف اہل لوگوں کو تعینات کیا گیا اور وہ اہل لوگ خواہ سلطان کے دشمن ہی کیوں نہ ہوں انہیں کوئی نوکری اور ترقی سے نہیں روک سکتا تھا‘ تیسرا یہ انصاف اور عدل پر بھی کمپرومائز نہیں کرتے تھے‘ یہ ہو نہیں سکتا تھا ملک کا کوئی طاقت ور شخص کسی کم زور کا حق مار لے اور ریاست اس پر خاموش رہے‘ سلطان نے اربوں روپے کے پلازے اور زمینیں حق داروں کو واپس کرائیں اور اس عمل میں کسی کا دباﺅ قبول نہیں کیا۔

مسقط کے اندر الموج (ویوز) نام کا ایک وسیع رہائشی کمپاﺅنڈ ہے‘ یہ سمندر کے کنارے ہے اور یہ ہر لحاظ سے دوبئی لگتا ہے‘ یہ انٹرنیشنل کمیونٹی کا کمپاﺅنڈ ہے‘ آپ اس میں داخل ہوں آپ کو محسوس ہوگا آپ کسی عرب ملک کی بجائے یورپ میں پھر رہے ہیں‘ اسلامی دنیا کے زیادہ تر معزول حکمرانوں کے خاندان الموج میں رہتے ہیں‘ کرنل قذافی کی فیملی بھی یہاں رہتی ہے اور شام‘ یمن‘ عراق اور لبنان کے معزول حکمرانوں اور وزراءکے بچے بھی۔

سلطان قابوس حالات کے شکار حکمرانوں کے برے وقت کے ساتھی ثابت ہوتے تھے‘ یہ ہر لٹے پٹے حکمران اور اس کے خاندان کے لیے اپنے دروازے کھول دیتے تھے‘ شاید یہی وجہ ہے ان کے جنازے میں وہ تمام لوگ موجود تھے جنہیں پوری دنیا مل کر ایک جگہ نہیں بٹھا سکی‘ مصر کے مورسی اور السیسی دونوں گروپ ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں‘ یمن میں حوثیوں اور حکومت کے درمیان لڑائی چل رہی ہے‘ شام میں تین مختلف اسلامی طاقتیں ایک دوسرے کے سر اتار رہی ہیں اور ایران اور سعودی عرب کا تنازع بھی آخری سٹیج پر پہنچ چکا ہے مگر آپ سلطان قابوس کا کمال دیکھیے‘ ان سب طاقتوں کے سربراہ اور نمائندے سلطان کے جنازے میں موجود تھے۔

یہ سب مل کر ان کے درجات کی بلندی کی دعا کر رہے تھے‘آپ یہ دیکھیے اومان واحد عرب ملک ہے جس میں کوئی ولی عہد نہیں تھا‘ سلطان کے انتقال کے بعد ان کی وصیت کھولی گئی‘ سلطان نے ہیثم بن طارق السعید کو بادشاہ نامزدکیا تھا اور پورے خاندان اور ملک میں سے کسی نے چوں تک نہ کی‘ ہر شخص نے سلطان کے فیصلے پر آمین کہہ دی‘ پوری دنیا کا خیال تھا سلطان قابوس کے بعد تخت اور تاج کے ایشو پر اومان بکھر جائے گا لیکن سلطان کے اخلاص اور محبت نے انتقال کے بعد بھی ملک کو جوڑے رکھا۔

ملک میں کسی جگہ بغاوت ہوئی اور نہ شورش‘ کسی نے مخالفانہ آواز تک نہیں نکالی اور سلطان بلا کے مستقل مزاج بھی تھے‘ یہ جو کام شروع کر دیتے تھے یہ اسے پایہ تکمیل تک پہنچا کر دم لیتے تھے‘ یہ ہو نہیں سکتا تھا سلطان قابوس نے کوئی کام شروع کیا ہو اور وہ کام مکمل نہ ہوا ہو چناں چہ میں سمجھتا ہوں سلطان قابوس کی قبر صرف قبر نہیں یہ اسلامی دنیا کے تمام حکمرانوں کے لیے روشن مثال ہے اور یہ مثال ثابت کرتی ہے انسان اگر دنیا میں کچھ کرنا چاہے تو یہ پوری قوم کا مقدر بدل سکتا ہے اور اس کے جانے کے بعد اس مٹی کی چھوٹی سی ڈھیری دنیا کا سب سے بڑا مقبرہ بن سکتی ہے۔

لوگ اس کی کچی قبر کی مٹی کو سرمہ بنا لیتے ہیں اور سلطان قابوس زندہ تھے تو یہ کمال تھے‘ یہ انتقال فرما گئے تو یہ کمال سے بھی بڑا کمال بن گئے‘ یہ ثابت کر گئے لوگوں کی خدمت کرنے والے حکمران مزاروں اور مقبروں کے محتاج نہیں ہوتے‘ ان کی کچی قبریں بھی تاج محل سے بڑی اور قیمتی ہوتی ہیں

The Quran translated into different languagesدنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ قرآن

different languages

Language(s) available
1 – مصحف الشمرلي الطبعة المصرية للمصحف الشريف
العربية (Arabic)
2 – THE NOBLE QUR’AN Translation of the Meanings and Commentary
English (Eng)
3 – The Qur’an English Meanings Revised and Edited by SAHEEH INTERNATIONAL
English (Eng)
4 – LE NOBLE CORAN et la traduction en langue française de ses sens
Français (French)
5 – Le Qur’ān Traduction du sens de ses Versets
Français (French)
6 – EL MENSAJE DEL QUR’AN
Español (Spanish)
7 – Traducción de los significados de EL SAGRADO CORÁN en idioma Español
Español (Spanish)
8 – Der edle Qur’an und die Übersetzung seiner Bedeutungen in die deutsche Sprache
Deutsch (German)
9 – Überseteung der Bedeutungen Des edlen Qur’ans in die deutsche Sprache
Deutsch (German)
10 – Al-Fâtihah och Djuz ‘Amma tillsammans med översättningen av dess versers betydelser på svenska
Svenska (Swedish)
11 – Koranen på norsk
Norsk (Norwegian)
12 – قرآن كريم وترجمة معاني آن بزبان فارسي
فارسي (Persian)
13 – Święty Quran Noble Kuran Tłumaczenie od ten Treści po polsku
Polski (Polish)
14 – Il Sacro Corano
Italiano (Italian)
15 – Il Nobile Corano E la traduzione dei suoi significati in lingua italiana
Italiano (Italian)
16 – Koranen for begyndere Sûrat al-Fâtiħah (01) og dijuzaam-ma (78-114)
Dansk (Danish)
17 – Aatelinen Quran
Suomi (Finnish)
18 – Свещен Коран
България (Bulgarian)
19 – De vertaling van de betekenis van de Edele Qur’an
Dutch (Nederland)
20 – INTERPRETATIE VAN DE BETEKENIS VAN DE HEILIGE KORAN
Dutch (Nederland)
21 – TO IEPO KOPANIO
Ελληνικά (Greek)
22 – TRADUCEREA SENSURILOR CORANULUI CEL SF?NT ?N LIMBA ROM?N?
Română (Romanian)
23 – 성 꾸란의 한국어 번역 및 해설
한국어 (Korean)
24 – KUR’AN-I KERİM
Türkçe (Turk)
25 – əl-Fatihə surəsi və cüz Əmmənin Azərbaycan dilinə tərcüməsi
Azərbaycan (Azr)
26 – 日本語の翻訳は、クルアーンの崇高な意味を解説
日本語 (Japanese)
27 – AL QUR’AN ALAPONLE
Yorùbá (Yoruba)
28 – د قرآن كريم ترجمه او تفسير په پنبتوژبه كنبى 1 دويم جلد 1-15
پشتو (Pashto)
29 – د قرآن كريم ترجمه او تفسير په پنبتوژبه كنبى 2 دويم جلد 16-30
پشتو (Pashto)
30 – KITAB SUCI AL-QURAN
Melayu (Malay)
31 – KUR’AN S PREVODOM
Bosanski (Bosnian)
32 – Tradução do sentido do NOBRE ALCORÃO
Português (Portuguese)
33 – Os Significados dos Versículos do Alcorão Sagrado
Português (Portuguese)
34 – СМЫСЛОВОЙ ПЕРЕВОД СВЯЩЕННОГО КОРАНА НА РУССКИЙ ЯЗЫК
Русский (Russian)
35 – Перевод смыслов Священного корана на русский язык
Русский (Russian)
36 – 神圣古兰经 (神聖古蘭經)
汉语 (Chinese)
37 – 中文譯解 古蘭經 法赫德國王古蘭經印製廠
汉语 (Chinese)
38 – KUR’AN-i Përkthim me komentim në gjuhën shqipe
Shqip (Albanian)
39 – AL QUR’AN DAN TERJEMAHNYA
Bahasa (Indonesia)
40 – വിശുദ്ധ ഖുര്ആ ന്? സമ്പൂര്ണ്ണ മലയാള പരിഭാഷ
മലയാളം (Malayalam)
41 – Last 3 Chapters of the Noble Qur’an
বাংলা (Bangla)
42 – আল – কুরআনুল করীম’র
বাংলা (Bangla)
43 – Qur’ani Tukufu
Sawahili (Sawa)
44 – AL FATIHAH AT JUZ-U AMMA
Tagalog (Filipino)
45 – यवित्र कुआन
हिन्दी (Hindi)
46 – ALKUR’ANI MAI GIRMA Da Kuma Tarjaman Ma’anõninsa Zuwa Ga Harshen HAUSA
Hausa (Hau)
47 – قرآن كريم مع اردو ترجمة و تفسير
اردو (URDU)
48 – The Noble Qur’an
ภาษาไทย (Thai)
49 – SORTE AL-FAATIHA E FECCERE AMMA
Fulani (Ful)
50 – IKUR’AN EYINGCWELE
isiZulu (Zulu)
51 – фатиха суросунун тафсири
кыргыз тили (Kyrgyz)
52 – NOBLE QURAN
తెలుగు (Telugu)
53 – THE NOBLE QUR’AN
Tigrinna (Tigrinya)
54 – NOBLE QUR’AN
Sinhala (Sinhalese)
55 – FATIHA EM O DŽUZU AMME Em leskoro iraniba ki Romani čhib
čhib (Romani)
56 – NOBLE QURAN
Македонски (Macedon)
57 – NOBLE QURAN
غثمازيغث (Tamazight)
58 – NOBLE QURAN
Khmer (Cambodian)
59 – NOBLE QURAN Tamil
தமிழ் (Tamil)
60 – قرئان كه ريم
ئويغورچە‎ / ئويغور تىلى‎ (Uyghur)
61 – The Transliteration of the Noble Qur’an
Latin (Latin)
62 – QUR’AN YOLEMEKEZEKA yotanthauzidwa m’chichewa
Chicheŵa (Chich)
63 – So Qur’an al Karim ago so Kiya pema ana iron ko basa a iranon sa pilimpinas
Iranon (Ira)
64 – Құран Кәрим
Қазақ тілі (Kazakh)
65 – QURAANIKA KARIIMKA Iyo Tarjamada Macnihiisa Ee Afka Soomaaliga
Soomaaliga (Somalia)
66 – THE NOBLE QURAN in the Bambara Language
N’ko (Bambara)
67 – قرآن كريم
براهوئي (Brahui)
68 – פירושי הקוראן בשפה העברית סורת מַרְיַם
עִבְרִית (Hebrew)
69 – Thiên Kinh Qur’an
Việt (Vietnamese)
70 – قرآن مجيد سنڌي ترجمي سان
سنڌي (Sindhi)
71 – Noble Quran in the Burmese language Vol: 1
Burmese (Myanmar)
72 – Noble Quran in the Burmese language Vol: 2
Burmese (Myanmar)
73 – قرآن مجيد تمي? كاشر تفسير
कॉशुर, كأشُر Koshur (Kashmiri)
74 – Koroang Mala’bi’ anna Battuanna Tama di Basa Indoniesia anna Basa Mandar ( 3 bagian terakhir )
Mandar (Mandriya)
75 – EL NOBLE ALCORÀ
kætəˈlæn (Catalan)
Share this:ضرور شیئر کریں۔

Aap Ka Bacha Kamyab Ho Sakta Hai By Qasim Ali Shah Pdf book

Download Link


:

Book Name: Aap Ka Bacha Kamyab Ho Sakta Hai

Author: Qasim Ali Shah

مصنف: قاسم علی شاہ تفصیل: قاسم علی شاہ کتاب آپ کا بچہ کامیاب ہو سکٹا ہے پی ڈی ایف کے مصنف ہیں۔ یہ پاکستان کے نامور ادیب اور ترغیب یافتہ اسپیکر کا ایک اور بیسٹ سیلر ہے۔ یہ کتاب آپ کے بچوں کی تربیت کے بارے میں ہے تاکہ وہ زندگی میں کامیاب ہوں۔ اس کتاب میں مصنف نے شاندار بچوں کی علامتوں کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ کامیاب بچے کی کچھ اچھی عادات ہوتی ہیں اور یہ عادات اسے مستقبل میں فخر بیٹا / بیٹی بناتی ہیں۔ اس کتاب کو پڑھنے سے ، ہر والدین اپنے پیاروں کی کامیابی کے راز جاننے کے قابل ہوجائیں گے۔

Do Susar Do Damaad By Muhammad Azeem Raiee free

ONLINE READ
DOWNLOAD               (5 MB)
OTHER LINK
DOWNLOAD               (5 MB)

سیرت خلفائے راشدین رضوان اللہ علیھم اجمعین پر پہلی غیر منقوط (اردو معری میں لکھی گئی) کتاب

Javed Chaudhry columns قومی مفاد


 2020جمعرات‬‮ 9 جنوری

میں نے ان سے پوچھا ”یہ آپ نے کیا کیا؟“ وہ شرمندہ ہو کر بولے ”ہم بھٹو بنتے بنتے میاں نواز شریف بھی نہیں رہے“ میں نے حیرت سے پوچھا ”کیا مطلب“ وہ بولے ”ہم ذوالفقار علی بھٹو سے لاکھ اختلاف کریں لیکن وہ نظریاتی منافقت سے پاک تھے‘ وہ جو کہتے تھے وہ کرتے بھی تھے‘ وہ اگر جمہوریت‘ آئین اور سویلین سپرمیسی کی بات کرتے تھے تو آپ کو ان کے ہر ایکشن میں یہ نظر بھی آتی تھیں‘ بھٹو نے ملک میں جمہوریت قائم کی‘ وہ اسے طلباء‘ بلدیاتی اداروں اور ٹریڈ یونینز تک لے کر گئے۔

مزدور‘ کسان اور کلرک تینوں کو جمہوری حق دیا‘ ملک کا پہلا متفقہ آئین بھی ذوالفقار علی بھٹو نے بنایا اور حمود الرحمن کمیشن ہو‘ بھارت کی

قید سے 90 ہزار فوجیوں کی رہائی ہو یا پھر اپنی مرضی کے جنرلز کی بطور آرمی چیف تعیناتی ہو یہ سارے کام ذوالفقار علی بھٹو نے کیے اور ڈنکے کی چوٹ پر کیے“وہ رکے اور آہستہ سے بولے ” بھٹو نے قید بھی مردانہ وار برداشت کی‘ لیبیا‘ شام‘ سعودی عرب اور ترکی نے بھٹو کی گارنٹی دینے کی کوشش کی‘ یہ ممالک چاہتے تھے پاکستان بھٹو کو ان کے حوالے کر دے‘یہ جنرل ضیاءالحق کو دس سال کا تحریری معاہدہ دینے کے لیے بھی تیار تھے لیکن ذوالفقار علی بھٹو نے کسی قسم کے این آر او سے انکار کر دیا‘یہ پھانسی چڑھ گئے لیکن ہار نہیں مانی‘ میں ہمیشہ ذوالفقار علی بھٹو کی نیشنلائزیشن پالیسی‘ وڈیرا سوچ اور منتقم مزاج رویوں کا مخالف رہا ہوں‘ ان کی ذات میں ایک خوف ناک وڈیرا بیٹھا تھا‘ وہ وڈیرا جب جاگتا تھا تو وہ بادشاہ بن جاتے تھے‘ بھٹو صاحب نے تعلیمی اداروں سے لے کر صنعتوں تک کو قومیا کر معیشت کا بیڑہ بھی غرق کر دیا‘ ہم آج کشکول اٹھا کر در در پھر رہے ہیں‘ اس کے پیچھے ذوالفقار علی بھٹو کی معاشی حماقت تھی‘ وہ اگر انڈسٹری اور بزنس چلنے دیتے تو ایوب خان کے دور کے 22 صنعتی خاندان آج اڑھائی ہزار ہو چکے ہوتے اور پاکستان دنیا کے دس امیر ترین ملکوں میں ہوتا‘یہ ساری غلطیاں اپنی جگہ لیکن ہمیں ماننا ہوگا وہ نظریاتی منافقت کا شکار نہیں تھے‘ وہ گردن سے اوپر سچے اور کھرے تھے چناں چہ وہ پھانسی چڑھ گئے مگر سمجھوتہ نہیں کیا“۔
وہ رکے‘ لمبا سانس لیا اور بولے ”ہمارے قائد میاں نواز شریف 45 سال سے ذوالفقار علی بھٹو بننے کی کوشش کررہے ہیں لیکن جب بھی عمل کا وقت آتا ہے تو یہ کوئی نہ کوئی سیاسی حماقت فرما دیتے ہیں‘ آپ 1990ءسے لے کر2018ءتک ہمارے قائد کے سیاسی اتار چڑھاﺅ کا تجزیہ کر لیں‘ یہ آپ کو ہر دور میں فوج سے لڑتے اور مار کھاتے نظر آئیں گے‘ قائد 1990ءمیں پہلی مرتبہ وزیراعظم بنے اور جنرل آصف نوازجنجوعہ کے ساتھ لڑائی شروع کر دی‘ جنرل آصف نواز جنجوعہ eight جنوری 1993ءکو ہارٹ اٹیک کی وجہ سے انتقال کر گئے۔

پارٹی نے سکھ کا سانس لیا‘ میاں نواز شریف نے خود جنرل عبدالوحید کاکڑ کو آرمی چیف بنایا‘ سول اور ملٹری دونوں ایک پیج پر آ گئے‘ہمارا خیال تھا ہم پانچ سال پورے کر جائیں گے مگر یہ پیج بھی بمشکل چھ ماہ چل سکا اور جنرل عبدالوحید کاکڑ نے صدر غلام اسحاق خان اور میاں نواز شریف دونوں کو فارغ کر دیا‘ میاں نواز شریف 1997ءمیں دوسری بار وزیراعظم بنے‘ جنرل جہانگیر کرامت آرمی چیف تھے‘ یہ پروفیسر ٹائپ آرمی چیف تھے‘ قانون اور قاعدے کے مطابق چلتے تھے۔

میاں نواز شریف نے اقتدار سنبھالتے ہی ان کے ساتھ بھی محاذ آرائی شروع کر دی‘ یہ محاذ آرائی جنرل جہانگیر کرامت کے استعفے پر اختتام پذیر ہوئی‘ میاں نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف کو خود منتخب کیا‘ یہ سنیارٹی میں تیسرے نمبر پر تھے‘ گوہر ایوب پانی و بجلی کے وزیر تھے‘ جنرل علی قلی خان ان کے برادرنسبتی ہیں‘یہ جنرل مشرف سے سینئر تھے‘ گوہر ایوب انہیں آرمی چیف بنوانا چاہتے تھے مگر میاں نواز شریف اس عہدے پر کسی تگڑے خاندان کا کوئی جنرل نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔

جنرل پرویز مشرف کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں کوئی نہیں تھا لہٰذا یہ ہمارے قائد کی نظر انتخاب میں آ گئے‘ جنرل مشرف نواز شریف کو پسند کرتے تھے‘ میاں شریف نے ان کو اپنا بیٹا بھی بنا لیا مگر یہ رشتہ بھی زیادہ دنوں تک نہ چل سکا اور اس کا اختتام بھی 12 اکتوبر 1999ءکی شکل میں نکلا‘ میاں نواز شریف تیسری بار5جون2013ءکو وزیراعظم بنے‘ جنرل اشفاق پرویز کیانی آرمی چیف تھے‘ میاں نواز شریف کا ان سے بھی پھڈا ہو گیا‘ میاں صاحب نے خود تین جنرلز میں سے جنرل راحیل شریف کو منتخب کیا۔

سول اور ملٹری دونوں ایک پیج پر آ گئے لیکن یہ پیج بھی پھٹتے زیادہ دیر نہ لگی‘ جنرل راحیل شریف کے دور میں میاں نواز شریف پر ایکسٹینشن کا دباﺅ بھی آیا‘ریٹائرمنٹ ایج بھی 60 سے 63 سال کرنے کی تجویز دی گئی اور جنرل راحیل شریف کو فیلڈ مارشل بنانے کا مشورہ بھی دیا گیا مگر میاں نواز شریف نہیں مانے‘ یہ ادارے کو شخصیات سے بالاتر سمجھتے اور کہتے تھے‘ جنرل راحیل شریف کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ آرمی چیف بنا دیے گئے‘ جنرل باجوہ آج بھی میاں نواز شریف کی حب الوطنی کا اعتراف کرتے ہیں۔

یہ ان کی شرافت کی بھی تعریف کرتے تھے مگر اس کے باوجود میاں نواز شریف اور جنرل باجوہ کے درمیان بھی اختلافات پیدا ہو گئے“۔وہ رکے لمبا سانس لیا اور بولے ”ہم نے اگر لیٹنا ہی تھا تو ہم جنرل راحیل شریف کے دور ہی میں لیٹ جاتے‘ ہمیں جوتے اور پیاز دونوں نہ کھاناپڑتے‘ ہمارے قائد نے ہمیں دیوار پر چڑھا کر نیچے سے سیڑھی کھینچ لی“ وہ خاموش ہوئے‘ میرے ساتھ ہاتھ ملایا اور تیزی سے باہر نکل گئے اور میں سوچتا رہ گیا آرمی ایکٹ میں ترمیم کے معاملے میں ملک کی تینوں جماعتوں کے موقف میں کیا فرق ہے؟۔

ہم کان کو کسی بھی طرف سے پکڑیں مگر ہمیں ماننا پڑے گا پاکستان پیپلز پارٹی‘ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف تینوں کا موقف ماضی میں ایک تھا‘ آرمی چیف کی تقرری کا طریقہ کار بھٹو صاحب نے وضع کیا تھا‘ میاں نواز شریف اپنے پورے سیاسی کیریئر کے دوران آرمی چیف کے ایشو پر لڑتے رہے جب کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی ایکسٹینشن پر عمران خان کا موقف پوری دنیا نے سنا‘ یہ اس ایکسٹینشن کو ادارے کے خلاف سازش قرار دیتے تھے۔

تاریخ میں صرف آصف علی زرداری واحد لیڈر تھے جو یہ ایکسٹینشن دینے کے حامی بھی تھے اور جو ببانگ دہل یہ بھی کہتے تھے آپ اگر پاکستان میں حکومت کرنا چاہتے ہیں تو پھر کبھی اللہ‘ امریکا اور آرمی سے نہ بگاڑیں تاہم پارٹی کی رائے ہمیشہ ان سے مختلف رہی لیکن قوم نے جب 7 جنوری کو پاکستان پیپلز پارٹی‘ ن لیگ اور پاکستان تحریک انصاف کو آرمی ایکٹ میں ترمیم کے ایشو پر ایک پیج پر دیکھا تویہ حیران رہ گئی اور ایک دوسرے سے پوچھنے لگی ہماری سیاسی قیادت نے اگر یہ ہی کرنا تھا تو پھر اتنی بھاگ دوڑ کی کیا ضرورت تھی؟

یہ ماضی ہی میں اس حقیقت کو حقیقت مان لیتے تو آج کا پاکستان مختلف ہوتا‘ ہم ترقی کر چکے ہوتے‘ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کو بھی حقائق کا بروقت ادراک کر لینا چاہیے تھا اور پیچھے رہ گئے عمران خان تو انہیں بھی 1999ءمیں جنرل پرویز مشرف کے انقلاب کے بعد سچ کو سچ تسلیم کر لینا چاہیے تھا‘ یہ بھی بھاگ دوڑ اور یوٹرن سے بچ جاتے اور آج ملک بھی مختلف ہوتا۔میں آرمی ایکٹ میں ترمیم کو پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین فیصلہ سمجھتا ہوں‘ اس فیصلے نے پوری سیاسی قیادت کے منہ سے نقاب اتار دیا۔

پاکستان مسلم لیگ ن نے میاں نواز شریف کی رضامندی سے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا‘ اس ووٹ نے ثابت کر دیا میاں نواز شریف دو ہیں‘ برسر اقتدار میاں نواز شریف اور اپوزیشن لیڈر میاں نواز شریف‘ میاں نواز شریف اقتدار کی کرسی پر بیٹھتے ہی آرمی چیف کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع کر دیتے ہیں اور اپوزیشن میں بیٹھے میاں نواز شریف ہمیشہ فوج کے ساتھ کمپرومائز کرتے ہیں‘ یہ جنرل پرویز مشرف کے ساتھ دس سال کا معاہدہ کر کے جدہ بھی چلے جاتے ہیں اور یہ بیماری کا بہانہ کر کے لندن میں بھی پناہ گزین ہو جاتے ہیں۔

ترمیم نے ثابت کر دیا میاں نواز شریف نظریاتی لیڈر نہیں ہیں‘ یہ وقت کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور ان کے فیصلے ضمیر نہیں وقت کرتا ہے‘ ترمیم نے پاکستان پیپلز پارٹی کی قلعی بھی کھول دی‘ یہ ثابت ہو گیا پارٹی سے بھٹو اور محترمہ دونوں کی روح نکل چکی ہے‘ یہ اب زرداری پارٹی ہے اور آپ اس سے کچھ بھی منوا لیں اور ترمیم نے یہ بھی ثابت کر دیا پاکستان نیا نہیں بلکہ یہ پرانے سے بھی پرانا ہو چکا ہے‘ عمران خان پرانے لیڈروں کے بھی بزرگ ہیں‘ وہ لوگ تو پھر بھی کسی نہ کسی جگہ اڑ جاتے تھے جب کہ نیا پاکستان ہر قسم کی معاونت کے لیے تیار بیٹھا ہے۔

ترمیم نے ہونا ہی تھا اور یہ ہو بھی گئی لیکن چلیں شکر ہے نظریاتی سیاست کا کیڑا تو نکل گیا‘ اداروں کا استحکام اور سسٹم کی بقا کی بحث تو ختم ہو گئی‘ووٹ کو عزت دو کا بخار تو ختم ہو گیا اور قوم کو یہ تو معلوم ہو گیا ملک میں اگلے چند برسوں میں کیا ہوگا اور کیسے ہوگا چناں چہ دائیں یا بائیں نہ دیکھیں‘ سیدھا دیکھیں اور سر نیچے کر کے چپ چاپ زندگی گزاریں‘ ہمارے ملک میں نظریات‘ ووٹ اور عزت تینوں بے معنی ہیں‘ صرف قومی مفاد حقیقت ہے اور اس قومی مفاد پر ساری پارٹیاں ایک ہیں۔