Javed Chaudhry columnsیہ آخر کب تک ہوتا رہے گا2020

ا
  منگل‬‮ 21 جنوری‬‮ 2020  | 

 Javed Chaudhry columnsیہ آخر کب تک ہوتا رہے گا

ظہیر الدین بابر نے کسی سے کہا تھا” میری زندگی بس اڑھائی دن ہے“ پوچھنے والے نے پوچھا ”بادشاہ معظم کیا مطلب“ بابر نے جواب دیا ” میں سمر قند سے افغانستان بھاگ رہا تھا‘ راستے میں تھکاوٹ ہوئی‘ گھوڑا باندھا اور درخت کے نیچے سو گیا‘ مجھے اچانک اپنا جسم کسا ہوا محسوس ہوا‘ آنکھ کھولی تو دیکھا ایک بہت بڑے اژدھے نے مجھے کس لیا ہے اور یہ مجھے منہ کھول کر نگلنے کی تیاری کر رہا ہے‘ میرے پاس دو راستے تھے‘ میں خود کوموت کے حوالے کر دوں یا پھر زندگی کے لیے لڑوں‘ میں نے لڑنا شروع کر دیا۔ موٹیویشنل کتابیں

اژدھا طاقت ور تھا اور میں کم زور‘ میں سارا دن اس کے ساتھ لڑتا رہا یہاں تک کہ میں جیت گیا اورمیں
نے اژدھے کو مار دیا‘ میں اسے زندگی کا ایک دن سمجھتا ہوں‘ دوسرا دن اس سے بھی مشکل تھا‘ میرے جسم پر خارش نکل آئی‘ میں سر سے لے کر پاﺅں تک خارش زدہ تھا‘ میںکپڑوں کو چھو تک نہیں سکتا تھا‘ سارا دن جسم پر مالش کر کے دھوپ میں لیٹا رہتا تھا‘ میرے دشمن شیبانی خان کو میری بیماری کا پتا چلا تو وہ عیادت کے لیے پہنچ گیا‘ میں نہیں چاہتا تھا وہ مجھے بیماری کے عالم میں ننگا دیکھے لہٰذا میں نے طبیبوں کے روکنے کے باوجود شاہی لباس پہنا اور آگے بڑھ کر اس کا استقبال کیا‘ وہ سارا دن میرے پاس رہا‘ میرے پورے جسم پر خارش ہو رہی تھی‘ مجھے لگتا تھا میں نے انگاروں کا لباس پہن رکھا ہے لیکن میں نے اس کے باوجود اپنے جسم کے کسی حصے پر خارش نہیں کی‘ وہ جوں ہی محل سے نکلا‘ میں نے اپنے سارے کپڑے اتار دیے‘ میرا پورا جسم لہو لہان ہو چکا تھا‘ وہ میری زندگی کا دوسرا دن تھا“ وہ رک گیا‘ پوچھنے والے نے پوچھا ”اور آدھا دن“ بابر نے ہنس کرجواب دیا ”میری ساری فتوحات اور بادشاہت صرف آدھے دن کے برابر ہیں“۔ہم اسے اقتدار کا بابری فارمولا کہہ سکتے ہیں اور اس فارمولے کے مطابق اڑھائی دن کی اس زندگی میں اقتدار کی حیثیت آدھے دن سے زیادہ نہیں ہوتی‘ باقی زندگی صرف اور صرف برداشت ہے اور برداشت حکمرانوں کا اثاثہ ہوتی ہے۔ انسائیکلوپیڈیا کتب

آپ اگر برداشت نہیں کر سکتے اور آپ اگر اپنی سوچ‘ اپنے فیصلوں‘ اپنی نفرت‘ اپنی خارش اور اپنی پسند کو دوسروں سے چھپا نہیں سکتے تو پھر آپ حکومت کے قابل نہیں ہوتے‘ آپ پھر عام آدمی سے بھی کم زور ہیں‘ میں اکثر لیڈر شپ کے سیشنز میں امریکی صدر جان ایف کینیڈی کا واقعہ سناتا ہوں‘ کینیڈی کے والد جوزف پیٹرک کینیڈی امریکا کے مشہور بزنس مین اور سفارت کار تھے‘ وہ برطانیہ میں امریکا کے سفیر بھی رہے‘ وہ انتہائی سمجھ دار اور زیرک انسان تھے۔ شاعری کتب

جان ایف کینیڈی صدر بننے کے بعد اپنے والد سے ملنے گیا اور ان سے کہا ”میں ایک مخمصے کا شکار ہوں“ والد کتاب پڑھ رہا تھا‘ اس نے سر اٹھا کر پوچھا ”کیا مطلب“ کینیڈی نے جواب دیا ”میرے بے شمار معاشقے ہیں‘ میں صدر بن چکا ہوں‘ میں اب ہر وقت ایجنسیوں اور میڈیا کی نظروں میں رہوں گا‘ مجھے خطرہ ہے میں اپنے معاشقوں کو زیادہ دیر تک میڈیا‘ ایجنسیوں اور اپنی بیوی سے خفیہ نہیں رکھ سکوں گا“ والد نے قہقہہ لگایا اور کہا ” تمہیں فوراً استعفیٰ دے دینا چاہیے“۔

کینیڈی نے حیران ہو کر پوچھا ”کیوں؟“ والد نے جواب دیا ”جو شخص اپنے معاشقے میڈیا‘ ایجنسیوں اور بیوی سے نہیں چھپا سکتا اسے امریکا جیسی سپر پاور کا صدر نہیں ہونا چاہیے“ یہ ہوتے ہیںسیاست دان‘ یہ ہوتے ہیں حکمران یعنی آپ اپنی بیوی کو بھی اپنی سوچ کی ہوا نہ لگنے دیں جب کہ ہمارے ملک میں کیا ہو رہا ہے؟ ہمارے ملک میں آبی وسائل کے وفاقی وزیر فیصل واوڈا14 جنوری کو کاشف عباسی کے پروگرام میں سیاہ بوٹ لے کر آ گئے‘ وفاقی وزیر نے وہ بوٹ میز پر رکھا اور بوٹ دکھا دکھا کر کہا ”پاکستان مسلم لیگ ن نے لیٹ کر اور اسے چوم کر ووٹ کو عزت دی“۔

ان کا اشارہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کی طرف تھا اور ان کے کہنے کا مطلب تھا ”ن لیگ نے بوٹ کی وجہ سے ووٹ دیا“ فیصل واوڈا کی یہ حرکت پورے ملک میں پھیل گئی اور میڈیا‘ حکومت ‘ اداروں اور عوام کی طرف سے رد عمل آنے لگا‘ ملک کے تمام صحافیوں‘ اینکرز اور سیاست دانوں نے کھل کر مذمت کی لیکن وزیراعظم نے 24 گھنٹے بعد واوڈا صاحب کو ہلکا سا ”ڈس پلیر“ شو کیا‘ یہ واقعہ اس قدر قابل افسوس اور ناقابل برداشت تھا کہ حکومت کا کوئی ترجمان اسے ڈیفنڈ کرنے کے لیے تیار نہیں تھا بہرحال دباﺅ آیا اور خوف ناک آیا اور یہاں تک آیا کہ پیمرا نے 15 جنوری کی شب کاشف عباسی اور ان کے پروگرام پر دو ماہ کے لیے پابندی لگا دی۔

یہ پابندی بھی میڈیا میں کنٹرو ورشل ہو گئی‘ میڈیا نے جب بار بار کہنا شروع کر دیا‘ آپ نے مجرم چھوڑ دیا اور جائے واردات کو سزا دے دی تو وزیراعظم نے فیصل واوڈا پر پندرہ دن کے لیے میڈیا میں آنے پر پابندی لگا دی‘ آپ ذرا سزا ملاحظہ کیجیے‘پندرہ دن کی پابندی اور وہ بھی میڈیا میں آنے پر! واہ کیا بات ہے چوپٹ راج کی۔یہ بظاہر چھوٹا سا واقعہ تھا لیکن یہ واقعہ اپنے منہ سے بے شمار حقائق بتا رہا ہے‘ حکومت کو اب یہ ماننا ہوگااس کے وزراءصرف تجربے میں مار نہیں کھا رہے یہ عدم برداشت اور تہذیب کی کمی کے شکار بھی ہیں۔

یہ گفتگو کے دوران بھی عقل کھو بیٹھتے ہیں اور یہ اپنی حرکتوں سے بھی حیران کر دیتے ہیں‘ آپ کسی وزیر کو دیکھ لیں یہ آپ کو دفتروں‘ میٹنگز‘ پریس کانفرنسوں اور لائیو ٹیلی ویژن شوز میں موبائل فون پر مصروف نظر آئے گا‘ یہ لوگ سفیروں اور غیر ملکی وزراءکے ساتھ بھی میز پر آمنے سامنے بیٹھ کر ملاقات کرتے ہیں‘ آج تک کسی نے ان کو یہ نہیں بتایا میز پر آمنے سامنے بیٹھنا سفیر یا مہمان وزیر کی بے عزتی ہوتی ہے‘ وزیراعظم بھی روز یہ غلطی کرتے ہیں‘ یہ مہمان وزراءکو بھی بنی گالہ بلوا لیتے ہیں۔

بنی گالا میں گارڈز پوسٹ کے ساتھ دو نئے کمرے بن گئے ہیں‘ وزیراعظم مہمانوں کو وہاں ملتے ہیں‘ گارڈز نے باہر شلواریں دھو کر لٹکائی ہوتی ہیں‘ اومان کے مذہبی امور کے وزیرشیخ عبداللہ بن محمد7 جنوری کوپاکستان کے دورے پر آئے‘ انہیں بھی بنی گالا بلا لیا گیا‘ وزیراعظم اس وقت لان میں دھوپ سیک رہے تھے‘ انہوں نے کوٹ کے نیچے جیکٹ پہن رکھی تھی اور دائیں بائیں عام سی کرسیاں پڑی تھیں‘ اومانی وزیرکو انہی کرسیوں پر بٹھا دیا گیا اور ہلکی پھلکی بات چیت کر کے روانہ کر دیا گیا۔

میں اس میں وزیراعظم کو ذمہ دار نہیں سمجھتا‘ یہ زندگی میں پہلی بار وزیراعظم بنے ہیں‘ یہ پروٹوکول کو نہیں سمجھتے‘ وزیراعظم کو سمجھانا پروٹوکول ڈیپارٹمنٹ کا کام ہے‘ یہ انہیں بتائیں مہمان کیا ہوتے ہیں اور ہمیں ان کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے‘ ہم ایک طرف پوری دنیا سے بھیک مانگ رہے ہیں اور دوسری طرف ہم مہمان وزیروں اور سفیروں کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں‘ ہمیں عقل سے کام لینا چاہیے‘ دوسرا پروٹوکول ڈیپارٹمنٹ کو کابینہ کو بھی بریف کرنا چاہیے‘ یہ وزراءکو بھی بولنے‘ چلنے‘ اٹھنے بیٹھنے اور میڈیا کے سامنے آنے کا طریقہ بتائیں۔

یہ وزراءجو چاہتے ہیں بول دیتے ہیں اور جو چاہتے ہیں کر گزرتے ہیں اور اس کی قیمت بعد ازاں ملک کو ادا کرنی پڑتی ہے‘ ہم ایک طرف پوری دنیا میں اکیلے ہو چکے ہیں‘ دوسری طرف ہم اندرونی نفاق کا شکار ہیں اور تیسری طرف پورا ملک اس وقت قبض کا شکار ہے‘ بیورو کریسی کام نہیں کر رہی‘ آپ کسی ادارے کے بورڈ کی ایک سال کی کارکردگی دیکھ لیں آپ کو بورڈ کا ہر فرد اختلافی نوٹ لکھتا نظر آئے گا‘ میں دل سے سمجھتا ہوں حکومت نے اس دن بیورو کریسی کے ہاتھ باندھ دیے تھے جس دن فواد حسن فواد اور احد چیمہ گرفتار ہوئے تھے۔

ہم فواد حسن فواد سے لاکھ اختلاف کر سکتے ہیں لیکن ان کی مہارت اور حب الوطنی پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی‘ سی پیک اور میاں نواز شریف کی اکنامک پالیسی یہ دونوں فواد حسن فواد کا کمال تھا‘ احد چیمہ نے بھی دو دو سال کے منصوبے ایک ایک سال میں مکمل کر کے ریکارڈ قائم کر دیا لیکن آج افسر جب ان کا حشر دیکھتے ہیں تو یہ کام سے توبہ کر لیتے ہیں‘ افسر شاہی کی حالت یہ ہے کوئی بھی اچھا بیورو کریٹ کسی اہم پوزیشن پر تعیناتی کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

یہ لوگ کسی بڑے منصوبے کی اجازت تک نہیں دیتے‘ یہ کراکری خریدنے کی فائل بھی وزیراعظم کو بھجوا دیتے ہیں‘ فضول سے فضول ایشو بھی کابینہ میں پہنچ جاتا ہے اور کابینہ سے منظوری کے بعد بھی اس پر عمل نہیں ہوتا‘ یہ صورت حال اس وقت تک قائم رہے گی جب تک احد چیمہ اور فواد حسن فواد باہر نہیں آتے‘ بیورو کریٹس اس سے پہلے کام نہیں کریں گے اور اوپر سے وزیراعظم بھی اناڑی سرجن کی طرح 25 مریضوں کے سینے کھول کر بیٹھ گئے ہیں چناں چہ معیشت سے لے کر ماحولیات تک سارے مریض اس وقت آخری سانسیں لے رہے ہیں اور آپ مزید انتہا دیکھیے فیصل واوڈا بوٹ لے کر لائیو شو میں آ جاتے ہیں۔

حکومت آخر کرنا کیا چاہتی ہے؟ یہ لوگ کہیں اس ملک سے انتقام تو نہیں لے رہے؟یہ سلوک تو کوئی دشمن کے ساتھ بھی نہیں کرتا‘ ہم بھی کیا لوگ ہیں‘ ہم نے پورا ملک اٹھا کر ایسے ناتجربہ کاروں‘ غیر تہذیب یافتہ اور متکبر لوگوں کے حوالے کر دیا جو سٹوڈیو کی میز پر بوٹ رکھ کر کہتے ہیں یہ لوگ اس بوٹ کو چاٹتے رہے‘ چومتے رہے اور پھر جب ردعمل آتا ہے تو یہ کہتے ہیں ”کیا ہم نے غلط کہا“ یہ معذرت تک کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے‘ یہ کیا ہو رہا ہے اور یہ آخر کب تک ہوتا رہے گا؟کیا ملک میں کسی کے پاس اس سوال کا جواب ہے!

Javed Chaudhry columns یہ صرف قبر نہیں

یہ صرف قبر نہیںJaved Chaudhry columns  جمعہ‬‮ 17 جنوری‬‮ 2020 |  0:01

وہ ایک عام سی قبر تھی‘ مٹی کی ڈھیری ‘ قبر کے قریب سبز رنگ کی دو گندی سی بالٹیاں پڑی تھیں اور مٹی کو بہنے سے بچانے کے لیے قبر کے دائیں بائیں سفید ماربل کے پیس رکھ دیے گئے تھے اور بس‘ قبر کے گرد چار دیواری تھی‘ جنگلا تھا اور نہ ہی مزار تھا‘ میرے دوست نے قبر کی تصویر مجھے بھجوا دی‘ میں نے تصویر کو موبائل پر بڑا کر کے دیکھا تو نیچے لکھا تھا ”اومان کے سلطان قابوس کی قبر‘ یہ ہے زندگی کی اصل حقیقت“ تصویر بھیجنے والا شاید مجھے زندگی کی بے ثباتی سمجھانا چاہتا تھا لیکن میں یہ تصویر دیکھ کر ہنس پڑا‘ کیوں؟

کیوں کہ میں جانتا تھا میرا دوست بھی دوسرے پاکستانیوں کی طرح غلط فہمی

کا شکارہے‘ یہ بھی اس قبر سے عبرت تلاش کر رہے ہیں جب کہ مٹی کی ڈھیری بے ثباتی یا عبرت کی نشانی نہیں ‘ یہ دنیا کے ایک نام ور حکمران کی سادگی‘ عظمت اور پرفارمنس کا عظیم شاہکار تھی‘ سلطان قابوس اور ان کی فیملی چاہتی تو وہ اس قبر کے گرد سونے کا مزار بنا سکتی تھی‘ یہ لوگ سلطان مرحوم کی قبر کو تاج محل بھی بنا سکتے تھے مگر یہ سلطان کی درویشی‘ سادگی اور حقائق پسندی کا مذاق ہوتا‘ سلطان قابوس کتنے بڑے انسان تھے آپ اس کا اندازہ صرف دو چیزوں سے لگا لیجیے‘ سلطان صاحب 1970ءمیں جس گاڑی پر اقتدار سنبھالنے کے لیے محل آئے تھے ان کی وصیت کے مطابق ان کی میت بھی اسی 50 سال پرانی گاڑی میں ان کی آخری آرام گاہ تک پہنچائی گئی اور یہ قبر بھی ان کی ہدایت پر سادہ اور عام رکھی گئی‘یہ اسے مزار نہیں بنوانا چاہتے تھے‘ یہ تھے سلطان قابوس۔سلطان قابوس بن سعید جولائی 1970ءمیں اومان کے بادشاہ بنے‘ اومان اس وقت خلیج کا پسماندہ ترین ملک تھا‘ پورے ملک میں صرف تین سڑکیں تھیں‘ بجلی اور ہسپتالوں کا نام تک نہیں تھا‘ پورے ملک میں کوئی تعلیمی ادارہ اور کوئی منڈی نہیں تھی‘ ملک قبائل میں تقسیم تھا اور تمام قبائل ایک دوسرے کے ساتھ برسر پیکار تھے اور اومانی باشندے دوسرے ملکوں میں مزدوری کرتے تھے‘ سلطان قابوس نے بسم اللہ کی اور اومان کو بدلنا شروع کر دیا‘ یہ کس قدر وژنری حکمران تھے آپ اس کا اندازہ ان کے صرف ایک قدم سے لگا لیجیے۔

یہ اپنے مخالفین کو بلواتے تھے اور ان کے جوان بچوں کو حکومت کے خرچ پر اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا اور یورپ بھجوا دیتے تھے‘ یہ بچے جب دنیا دیکھ کر اور اعلیٰ تعلیم پا کر واپس آتے تھے تو یہ ریاست کے دشمن سے ریاست کے سب سے بڑے دوست بن چکے ہوتے تھے‘ یہ بچے آج حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں‘ اومان اس وقت خلیج کا پرامن ترین اور خوش حال ترین ملک ہے‘ آپ انصاف‘ تعلیم‘ علاج ‘ روزگار اور امن کسی بھی پہلو سے دیکھ لیں آپ کو اومان پورے خطے میں آگے ملے گا۔

مسقط اس وقت سنگا پور کے بعد دنیا کا صاف ترین شہر ہے‘ اومان خلیج کا واحد ملک ہے جس نے پارلیمنٹ اور حکومت میں خواتین کو 17 فیصد نمائندگی دی‘ آپ کو ہر حکومتی دفتر میں خواتین ملتی ہیں‘ سلطان کی پوری کابینہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے‘ وزراءآکسفورڈ‘ کیمبرج‘ ہارورڈ اور ہائیڈل برگ جیسی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہیں‘ مسجدوں کے امام بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں‘ آپ کسی گاﺅں کے مفتی سے بھی بات کر لیں‘ وہ بھی اپنے لہجے اور تہذیب سے آپ کو حیران کر دے گا‘ پوری اسلامی دنیا تقسیم ہے۔

ایران اور سعودی عرب کے اندر شیعہ سنی اختلافات انتہا کو چھو رہے ہیں‘ پاکستان کے حالات بھی آپ کے سامنے ہیں لیکن اومان میں کسی قسم کی مسلکی تقسیم ہے اور نہ ہی قبائلی‘ لوگ نماز تک ایک ہی مسجد میں ادا کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے آگے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھتے ہیں‘ آپ یونیورسٹیاں دیکھیں‘ آپ حیران رہ جائیں گے‘ آپ ہسپتال‘ سکول‘ کمیونٹی سنٹرز اور شاپنگ مالز دیکھیں‘ یہ بھی آپ کو حیران کر دیں گے اور آپ لوگوں کے رویے بھی دیکھ لیں۔

آپ ان کی شائستگی‘ تہذیب اور مہمان نوازی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے‘ آپ کو اگر موقع ملے تو آپ صرف مسقط کی جامع سلطان قابوس دیکھ لیں یا پھر مسقط کے اوپیرا ہاﺅس کا وزٹ کر لیں آپ کو دونوں ششدر کر دیں گے‘ آپ یہ فیصلہ نہیں کر سکیں گے سلطان نے اوپیرا ہاﺅس زیادہ اچھا تعمیر کیا یا پھر جامع مسجد اور آپ سڑکیں بھی دیکھ لیں‘ سلطان نے صحرا کے اندر تک سڑکیں پہنچا دیں اور یہ سارے کام ایک ہی سلطان کے دور میں ہوئے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے سلطان نے یہ سب کیسے کیا؟ وہ ایک بادشاہ تھے اور بادشاہ عموماً عوام کو سوچنے‘ بولنے اور علم حاصل کرنے کا موقع نہیں دیتے‘ سلطان قابوس پچاس سال بادشاہ رہے اور انہوں نے بادشاہی کے باوجود اپنے لوگوں‘ اپنے معاشرے کو کھول دیا‘ کیوں اور کیسے؟یہ سوال بہت اہم ہے اور ہم جیسے لوگوں اور معاشروں کے لیے اس میں روشنی کی بے شمار قندیلیں چھپی ہیں‘ سلطان قابوس کا پہلا کارنامہ امن تھا‘ سلطان نے 1970ءمیں فیصلہ کیا تھا یہ اسلامی دنیا کے کسی تنازع کا حصہ بھی نہیں بنیں گے اور یہ کسی کے ساتھ جنگ بھی نہیں کریں گے چناں چہ اومان پچاس سال میں کسی عالمی یا اسلامی تنازع میں فریق نہیں بنا۔

اس دوران ایران میں انقلاب آیا‘ افغان وار ہوئی‘ عراق اور ایران جنگ ہوئی‘ سنی اور شیعہ تنازع بنا‘ عرب ممالک میں ”انقلابی بہار“ آئی اور آخر میں یمن میں جنگ چھڑ گئی مگر اومان ہر معاملے میں نیوٹرل رہا‘ آپ سلطان قابوس کی ذہانت ملاحظہ کیجیے‘ اومان کی سرحدیں یمن‘ یو اے ای اور سعودی عرب سے ملتی ہیں‘ اومان کے تینوں ملکوں کے ساتھ سرحدی تنازعات بھی پیدا ہوئے لیکن سلطان قابوس نے لڑنے کی بجائے یو اے ای کے شیخ زید بن سلطان النہیان کو دعوت دی‘ نقشہ ان کے سامنے رکھا اوران سے کہا آپ اس پر لکیر لگا دیں‘ ہم اس لکیر کو سرحد مان لیں گے لیکن ہم آپ کے ساتھ لڑیں گے نہیں۔

شیخ زید نے نشان لگا دیا اور اومان نے اسے سرحد مان لیا‘تنازع ختم ہو گیا‘ یمن اور سعودی عرب کے ساتھ بھی سرحدی تنازعے اسی طرح سیٹل کیے گئے‘ سلطان کہتے تھے ”ہم ہمسایوں کے ساتھ لڑ کر امن سے نہیں رہ سکیں گے“ چناں چہ یہ بڑے سے بڑا ایشو بھی گفتگو کے ذریعے حل کرتے تھے‘ سلطان قابوس کے دور میں اومان نے خود جنگ کی اور نہ یہ کسی جنگ کا حصہ بنا‘ یہ ملک ہر دور میں ثالث رہا‘ یہ متحارب گروپوں کے درمیان صلح کراتا رہا‘یہ اس وقت بھی یمن کے دو اطراف کے زخمیوں کا ایک ہی ہسپتال میں علاج کرتے ہیں۔

یہ میرٹ پر بھی بے انتہا یقین رکھتے تھے‘ اومان میں پچھلے پچاس برسوں میں تمام عہدوں پر صرف اور صرف اہل لوگوں کو تعینات کیا گیا اور وہ اہل لوگ خواہ سلطان کے دشمن ہی کیوں نہ ہوں انہیں کوئی نوکری اور ترقی سے نہیں روک سکتا تھا‘ تیسرا یہ انصاف اور عدل پر بھی کمپرومائز نہیں کرتے تھے‘ یہ ہو نہیں سکتا تھا ملک کا کوئی طاقت ور شخص کسی کم زور کا حق مار لے اور ریاست اس پر خاموش رہے‘ سلطان نے اربوں روپے کے پلازے اور زمینیں حق داروں کو واپس کرائیں اور اس عمل میں کسی کا دباﺅ قبول نہیں کیا۔

مسقط کے اندر الموج (ویوز) نام کا ایک وسیع رہائشی کمپاﺅنڈ ہے‘ یہ سمندر کے کنارے ہے اور یہ ہر لحاظ سے دوبئی لگتا ہے‘ یہ انٹرنیشنل کمیونٹی کا کمپاﺅنڈ ہے‘ آپ اس میں داخل ہوں آپ کو محسوس ہوگا آپ کسی عرب ملک کی بجائے یورپ میں پھر رہے ہیں‘ اسلامی دنیا کے زیادہ تر معزول حکمرانوں کے خاندان الموج میں رہتے ہیں‘ کرنل قذافی کی فیملی بھی یہاں رہتی ہے اور شام‘ یمن‘ عراق اور لبنان کے معزول حکمرانوں اور وزراءکے بچے بھی۔

سلطان قابوس حالات کے شکار حکمرانوں کے برے وقت کے ساتھی ثابت ہوتے تھے‘ یہ ہر لٹے پٹے حکمران اور اس کے خاندان کے لیے اپنے دروازے کھول دیتے تھے‘ شاید یہی وجہ ہے ان کے جنازے میں وہ تمام لوگ موجود تھے جنہیں پوری دنیا مل کر ایک جگہ نہیں بٹھا سکی‘ مصر کے مورسی اور السیسی دونوں گروپ ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں‘ یمن میں حوثیوں اور حکومت کے درمیان لڑائی چل رہی ہے‘ شام میں تین مختلف اسلامی طاقتیں ایک دوسرے کے سر اتار رہی ہیں اور ایران اور سعودی عرب کا تنازع بھی آخری سٹیج پر پہنچ چکا ہے مگر آپ سلطان قابوس کا کمال دیکھیے‘ ان سب طاقتوں کے سربراہ اور نمائندے سلطان کے جنازے میں موجود تھے۔

یہ سب مل کر ان کے درجات کی بلندی کی دعا کر رہے تھے‘آپ یہ دیکھیے اومان واحد عرب ملک ہے جس میں کوئی ولی عہد نہیں تھا‘ سلطان کے انتقال کے بعد ان کی وصیت کھولی گئی‘ سلطان نے ہیثم بن طارق السعید کو بادشاہ نامزدکیا تھا اور پورے خاندان اور ملک میں سے کسی نے چوں تک نہ کی‘ ہر شخص نے سلطان کے فیصلے پر آمین کہہ دی‘ پوری دنیا کا خیال تھا سلطان قابوس کے بعد تخت اور تاج کے ایشو پر اومان بکھر جائے گا لیکن سلطان کے اخلاص اور محبت نے انتقال کے بعد بھی ملک کو جوڑے رکھا۔

ملک میں کسی جگہ بغاوت ہوئی اور نہ شورش‘ کسی نے مخالفانہ آواز تک نہیں نکالی اور سلطان بلا کے مستقل مزاج بھی تھے‘ یہ جو کام شروع کر دیتے تھے یہ اسے پایہ تکمیل تک پہنچا کر دم لیتے تھے‘ یہ ہو نہیں سکتا تھا سلطان قابوس نے کوئی کام شروع کیا ہو اور وہ کام مکمل نہ ہوا ہو چناں چہ میں سمجھتا ہوں سلطان قابوس کی قبر صرف قبر نہیں یہ اسلامی دنیا کے تمام حکمرانوں کے لیے روشن مثال ہے اور یہ مثال ثابت کرتی ہے انسان اگر دنیا میں کچھ کرنا چاہے تو یہ پوری قوم کا مقدر بدل سکتا ہے اور اس کے جانے کے بعد اس مٹی کی چھوٹی سی ڈھیری دنیا کا سب سے بڑا مقبرہ بن سکتی ہے۔

لوگ اس کی کچی قبر کی مٹی کو سرمہ بنا لیتے ہیں اور سلطان قابوس زندہ تھے تو یہ کمال تھے‘ یہ انتقال فرما گئے تو یہ کمال سے بھی بڑا کمال بن گئے‘ یہ ثابت کر گئے لوگوں کی خدمت کرنے والے حکمران مزاروں اور مقبروں کے محتاج نہیں ہوتے‘ ان کی کچی قبریں بھی تاج محل سے بڑی اور قیمتی ہوتی ہیں

Aap Ka Bacha Kamyab Ho Sakta Hai By Qasim Ali Shah Pdf book

Download Link


:

Book Name: Aap Ka Bacha Kamyab Ho Sakta Hai

Author: Qasim Ali Shah

مصنف: قاسم علی شاہ تفصیل: قاسم علی شاہ کتاب آپ کا بچہ کامیاب ہو سکٹا ہے پی ڈی ایف کے مصنف ہیں۔ یہ پاکستان کے نامور ادیب اور ترغیب یافتہ اسپیکر کا ایک اور بیسٹ سیلر ہے۔ یہ کتاب آپ کے بچوں کی تربیت کے بارے میں ہے تاکہ وہ زندگی میں کامیاب ہوں۔ اس کتاب میں مصنف نے شاندار بچوں کی علامتوں کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ کامیاب بچے کی کچھ اچھی عادات ہوتی ہیں اور یہ عادات اسے مستقبل میں فخر بیٹا / بیٹی بناتی ہیں۔ اس کتاب کو پڑھنے سے ، ہر والدین اپنے پیاروں کی کامیابی کے راز جاننے کے قابل ہوجائیں گے۔

Tehqeeqat e Chishti By Noor Ahmad Chishti Pdf book

http://Download Link

Book Name: Tehqeeqat e Chishti

Writer: Noor Ahmad Chishti

تاریخ لاہور پر یہ عمدہ تحریر ہے جس میں بہت ساری چیزوں ، مقامات ، اسکالرز ، حکمرانوں اور مزارات کو بیان کیا گیا ہے۔ مصنف نے کتاب کا آغاز ہندو راج سے کیا اور پنجاب میں مسلمانوں کے داخلے کا ذکر کیا۔ اس نے غلام خاندان ، تغلق ، خلجی ، سعادت ، لودھی ، اور مغل حکمرانی کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے لاہور کی ترقی میں مسلمانوں کی خدمات پر تبصرہ کیا۔ جب مسلمانوں نے حکومت کا کنٹرول ختم کردیا تو سکھوں نے لاہور پر قبضہ کرلیا۔ مصنف نے لاہورhttp://irqam.com/encyclopedia-seerat-un-nabi-urdu-by-syed-irfan-pdf-book-downloud/

Mohsin e Insaniyat By Naeem Siddiqui Pdf book Download

Book Name: Mohsin e Insaniyat

Writer: Maulana Naeem Siddiqui

مولانا نعیم صدیقی تفصیل: کتاب محسن ای انسانیات پی ڈی ایف پیغمبر اسلام کی زندگی اور کردار کے بارے میں ہے۔ یہ اردو زبان میں سیرت النبی پر ایک بہت ہی قیمتی کام ہے۔ مصنف نے رسول اللہ کی پوری زندگی بیان کی اور انہیں انسانیت کا فائدہ ثابت کیا۔ مولانا نعیم صدیقی اسلام کے مشہور اسکالر تھے۔ وہ ایک صحافی تھے اور کئی سالوں سے تراجمان القرآن کی تدوین کرتے تھے۔ مزید یہ کہ جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی سے ان کا گہرا تعلق ہے۔ مولانا نعیم صدیقی جماعت اسلامی کے بانی رکن تھے۔ اپنے طویل کیریئر میں انہوں نے سیرت ، سیرت اور مختصر کہانیاں میں بہت سی کتابیں مرتب کیں لیکن اس عظیم کتا

Download Link

Hairat Angaiz Waqiat Urdu By M. Ibrahim Khan Pdf book

Download Link

یہ پوری دنیا میں کچھ عجیب و غریب واقعات کا مجموعہ ہے۔ ان واقعات کا کوئی منطقی یا سائنسی پہلو نہیں ہے۔ گHairat Angaiz Waqiat Urdu By M. Ibrahim Khan Pdf book محققین ان واقعات کی وجوہات تلاش کرنے میں ناکام رہے۔ مصنف نے برمودا مثلث ، آئس مین اور بہت سی دوسری چیزوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ایم ابراہیم خان ایک مصنف اور مترجم ہیں۔ انہوں نے کچھ عمدہ کتابیں تصنیف کیں اور ترجمہ بھی کیا۔ ان کے پاس انگریزی اور اردو زبانوں کی عمدہ کمانڈ ہے۔ ابراہیم خان کے متن میں کچھ انوکھی معلومات موجود ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ کو کتاب حیرت انگاز واقیعت پی ڈی ایف اچھی لگےی۔

Aik Lafz Kiyon By Muzammil Hussain Korai Pdf book downloud

Download Link

Aik Lafz Kiyon By Muzammil Hussain Korai Pdf book downloudہ ایک عمدہ ٹکنالوجی اور معروف علم ای بک ہے جس نے استفسار حل کے نمونوں پر مرتب کیا۔ مصنف نے ای بک میں وضاحت کے ل mind کچھ ذہن اڑانے والے سوالات اور عام اعدادوشمار کا انتخاب کیا۔ مزمل حسین کورائی سائنس محقق اور مصنف ہیں۔ انہوں نے باقاعدہ سائنس اور وسیع پیمانے پر مہارت سے متعلق کچھ قابل ذکر کتابیں تصنیف کیں جو طالب علموں اور عام قارئین کے لئے اسی طرح کارآمد ہیں۔ میری خواہش ہے کہ آپ ای بک آک لافز کیون پی ڈی ایف چاہتے ہو اور دوسروں کو بھی شئیر کریں

Laton Ke Bhoot By Aitbar Sajid Pdf book free Download

Download Link

Book Name: Laton Ke Bhoot

Writer: Aitbar Sajid

Description:

Aitbar Sajid is the author of the book Laton Ke Bhoot Pdf.یہ کچھ مضحکہ خیز مضامین کا ایک مجموعہ ہے جس میں کچھ سماجی سرگرمیوں ، کھیلوں ، شخصیات ، معاملات اور کرداروں کو بیان کیا گیا ہے۔ تخلیق کار نے کچھ تفریحی حالات پیدا کرنے پر قارئین کو خوش کیا۔ ایٹبار ساجد اردو کے مشہور تخلیق کار ، شاعر ، طمانچہ مزاح نگار ، اور ناول نگار ہیں۔ اپنے عمدہ لکھنے کے پیشے میں ، انہوں نے کچھ عمدہ تعریفیں اور کتابیں تصنیف کیں۔ انہوں نے لکھنے کے ایک بالکل ہی منفرد فیشن کو اپنایا اور مزاح کے لئے ہربل مہارت حاصل کی۔ میری خواہش ہے کہ آپ ای بک لاٹن کے بھوت پی ڈی ایف چ Aitbar Sajidhttp://irqam.com/the-magic-urdu-by-rhonda-byrne-pdf-download-book

Shabash Tum Kar Sakte Ho By Qaiser Abbas Pdf book

Read Online Link
Download Link

B

Book Name: Shabash Tum Kar Sakte Ho

Writer: Qaiser Abbas

book Shabsh You Are A Car Author: Kaiser Abbas Description: Kaiser Abbas is the writer of the e-book Shabsh You Are Sketched PDF. This is an inspiring e book wherein the writer offers pointers for a a success lifestyles. He said that there’s no shortcut to achievement in lifestyles besides tough work. God gave all humans the identical features, and it’s far as much as man to serve them. The e book gives courage to a desperate character. Kaiser Abbas is a professional speaker, motivational writer, profession counselor, and company trainer. He is also the author of a number of the first-rate books along with writer Tick Tucker Dollar and Top Raising Geo. Kaiser Abbas’s books had been the first-class-promoting e book inside the US. I hope your ebook is Shashish You Can Like a PDF and percentage it together with your buddies on social media. Here at the website online, you may down load Kaiser Abbas’ books in PDF layout. If you would like extra, you can join our website to receive e mail notification of recent e book posts. You can examine the Highway Kamibi, Bari Passenger, and Main Love and all that.

Soch Ka Himalaya By Qasim Ali Shah PdfBook Free Download

  • Book Name: Soch Ka Himalaya
  • Writer: Qasim Ali Shah
  • :Soch Ka Himalaya Writer: Qasim Ali Shahکتاب کا نام: سوچ کا ہمالیہ مصنف: قاسم علی شاہ تفصیل: قاسم علی شاہ کتاب سوچ کا ہمالیہ پی ڈی ایف کے مصنف ہیں۔ یہ عمدہ تحریر ہے ، جس میں خود مدد ، حوصلہ افزائی ، اور خود نظم و نسق کی وضاحت کی گئی ہے۔ مصنف نے زندگی میں کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے بہت سے زندگی کو ہیک کرنے کے مشورے دیئے۔ انہوں نے مثبت سوچ کے بارے میں بات کی جو تمام مشکلات کی حتمی کامیابی میں مددگار ہے۔ مصنف نے ہمت ، صبر ، اور محنت کا سبق دیا۔ انہوں نے اساتذہ کی ضرورت کو سم
  • Qasim Ali Shah is the author of the e book Soch Ka Himalaya Pdf. It is awesome writing, which describes self-assist, motivation, and self-management. The writer gave many life hack recommendations to obtain any intention in existence. He mentioned the superb thinking this is useful inside the final success of all difficulties.Soch ka Himalaya by Qasim Ali Shah