Javed Chaudhry columns یہ صرف قبر نہیں

یہ صرف قبر نہیںJaved Chaudhry columns  جمعہ‬‮ 17 جنوری‬‮ 2020 |  0:01

وہ ایک عام سی قبر تھی‘ مٹی کی ڈھیری ‘ قبر کے قریب سبز رنگ کی دو گندی سی بالٹیاں پڑی تھیں اور مٹی کو بہنے سے بچانے کے لیے قبر کے دائیں بائیں سفید ماربل کے پیس رکھ دیے گئے تھے اور بس‘ قبر کے گرد چار دیواری تھی‘ جنگلا تھا اور نہ ہی مزار تھا‘ میرے دوست نے قبر کی تصویر مجھے بھجوا دی‘ میں نے تصویر کو موبائل پر بڑا کر کے دیکھا تو نیچے لکھا تھا ”اومان کے سلطان قابوس کی قبر‘ یہ ہے زندگی کی اصل حقیقت“ تصویر بھیجنے والا شاید مجھے زندگی کی بے ثباتی سمجھانا چاہتا تھا لیکن میں یہ تصویر دیکھ کر ہنس پڑا‘ کیوں؟

کیوں کہ میں جانتا تھا میرا دوست بھی دوسرے پاکستانیوں کی طرح غلط فہمی

کا شکارہے‘ یہ بھی اس قبر سے عبرت تلاش کر رہے ہیں جب کہ مٹی کی ڈھیری بے ثباتی یا عبرت کی نشانی نہیں ‘ یہ دنیا کے ایک نام ور حکمران کی سادگی‘ عظمت اور پرفارمنس کا عظیم شاہکار تھی‘ سلطان قابوس اور ان کی فیملی چاہتی تو وہ اس قبر کے گرد سونے کا مزار بنا سکتی تھی‘ یہ لوگ سلطان مرحوم کی قبر کو تاج محل بھی بنا سکتے تھے مگر یہ سلطان کی درویشی‘ سادگی اور حقائق پسندی کا مذاق ہوتا‘ سلطان قابوس کتنے بڑے انسان تھے آپ اس کا اندازہ صرف دو چیزوں سے لگا لیجیے‘ سلطان صاحب 1970ءمیں جس گاڑی پر اقتدار سنبھالنے کے لیے محل آئے تھے ان کی وصیت کے مطابق ان کی میت بھی اسی 50 سال پرانی گاڑی میں ان کی آخری آرام گاہ تک پہنچائی گئی اور یہ قبر بھی ان کی ہدایت پر سادہ اور عام رکھی گئی‘یہ اسے مزار نہیں بنوانا چاہتے تھے‘ یہ تھے سلطان قابوس۔سلطان قابوس بن سعید جولائی 1970ءمیں اومان کے بادشاہ بنے‘ اومان اس وقت خلیج کا پسماندہ ترین ملک تھا‘ پورے ملک میں صرف تین سڑکیں تھیں‘ بجلی اور ہسپتالوں کا نام تک نہیں تھا‘ پورے ملک میں کوئی تعلیمی ادارہ اور کوئی منڈی نہیں تھی‘ ملک قبائل میں تقسیم تھا اور تمام قبائل ایک دوسرے کے ساتھ برسر پیکار تھے اور اومانی باشندے دوسرے ملکوں میں مزدوری کرتے تھے‘ سلطان قابوس نے بسم اللہ کی اور اومان کو بدلنا شروع کر دیا‘ یہ کس قدر وژنری حکمران تھے آپ اس کا اندازہ ان کے صرف ایک قدم سے لگا لیجیے۔

یہ اپنے مخالفین کو بلواتے تھے اور ان کے جوان بچوں کو حکومت کے خرچ پر اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا اور یورپ بھجوا دیتے تھے‘ یہ بچے جب دنیا دیکھ کر اور اعلیٰ تعلیم پا کر واپس آتے تھے تو یہ ریاست کے دشمن سے ریاست کے سب سے بڑے دوست بن چکے ہوتے تھے‘ یہ بچے آج حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں‘ اومان اس وقت خلیج کا پرامن ترین اور خوش حال ترین ملک ہے‘ آپ انصاف‘ تعلیم‘ علاج ‘ روزگار اور امن کسی بھی پہلو سے دیکھ لیں آپ کو اومان پورے خطے میں آگے ملے گا۔

مسقط اس وقت سنگا پور کے بعد دنیا کا صاف ترین شہر ہے‘ اومان خلیج کا واحد ملک ہے جس نے پارلیمنٹ اور حکومت میں خواتین کو 17 فیصد نمائندگی دی‘ آپ کو ہر حکومتی دفتر میں خواتین ملتی ہیں‘ سلطان کی پوری کابینہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے‘ وزراءآکسفورڈ‘ کیمبرج‘ ہارورڈ اور ہائیڈل برگ جیسی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہیں‘ مسجدوں کے امام بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں‘ آپ کسی گاﺅں کے مفتی سے بھی بات کر لیں‘ وہ بھی اپنے لہجے اور تہذیب سے آپ کو حیران کر دے گا‘ پوری اسلامی دنیا تقسیم ہے۔

ایران اور سعودی عرب کے اندر شیعہ سنی اختلافات انتہا کو چھو رہے ہیں‘ پاکستان کے حالات بھی آپ کے سامنے ہیں لیکن اومان میں کسی قسم کی مسلکی تقسیم ہے اور نہ ہی قبائلی‘ لوگ نماز تک ایک ہی مسجد میں ادا کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے آگے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھتے ہیں‘ آپ یونیورسٹیاں دیکھیں‘ آپ حیران رہ جائیں گے‘ آپ ہسپتال‘ سکول‘ کمیونٹی سنٹرز اور شاپنگ مالز دیکھیں‘ یہ بھی آپ کو حیران کر دیں گے اور آپ لوگوں کے رویے بھی دیکھ لیں۔

آپ ان کی شائستگی‘ تہذیب اور مہمان نوازی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے‘ آپ کو اگر موقع ملے تو آپ صرف مسقط کی جامع سلطان قابوس دیکھ لیں یا پھر مسقط کے اوپیرا ہاﺅس کا وزٹ کر لیں آپ کو دونوں ششدر کر دیں گے‘ آپ یہ فیصلہ نہیں کر سکیں گے سلطان نے اوپیرا ہاﺅس زیادہ اچھا تعمیر کیا یا پھر جامع مسجد اور آپ سڑکیں بھی دیکھ لیں‘ سلطان نے صحرا کے اندر تک سڑکیں پہنچا دیں اور یہ سارے کام ایک ہی سلطان کے دور میں ہوئے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے سلطان نے یہ سب کیسے کیا؟ وہ ایک بادشاہ تھے اور بادشاہ عموماً عوام کو سوچنے‘ بولنے اور علم حاصل کرنے کا موقع نہیں دیتے‘ سلطان قابوس پچاس سال بادشاہ رہے اور انہوں نے بادشاہی کے باوجود اپنے لوگوں‘ اپنے معاشرے کو کھول دیا‘ کیوں اور کیسے؟یہ سوال بہت اہم ہے اور ہم جیسے لوگوں اور معاشروں کے لیے اس میں روشنی کی بے شمار قندیلیں چھپی ہیں‘ سلطان قابوس کا پہلا کارنامہ امن تھا‘ سلطان نے 1970ءمیں فیصلہ کیا تھا یہ اسلامی دنیا کے کسی تنازع کا حصہ بھی نہیں بنیں گے اور یہ کسی کے ساتھ جنگ بھی نہیں کریں گے چناں چہ اومان پچاس سال میں کسی عالمی یا اسلامی تنازع میں فریق نہیں بنا۔

اس دوران ایران میں انقلاب آیا‘ افغان وار ہوئی‘ عراق اور ایران جنگ ہوئی‘ سنی اور شیعہ تنازع بنا‘ عرب ممالک میں ”انقلابی بہار“ آئی اور آخر میں یمن میں جنگ چھڑ گئی مگر اومان ہر معاملے میں نیوٹرل رہا‘ آپ سلطان قابوس کی ذہانت ملاحظہ کیجیے‘ اومان کی سرحدیں یمن‘ یو اے ای اور سعودی عرب سے ملتی ہیں‘ اومان کے تینوں ملکوں کے ساتھ سرحدی تنازعات بھی پیدا ہوئے لیکن سلطان قابوس نے لڑنے کی بجائے یو اے ای کے شیخ زید بن سلطان النہیان کو دعوت دی‘ نقشہ ان کے سامنے رکھا اوران سے کہا آپ اس پر لکیر لگا دیں‘ ہم اس لکیر کو سرحد مان لیں گے لیکن ہم آپ کے ساتھ لڑیں گے نہیں۔

شیخ زید نے نشان لگا دیا اور اومان نے اسے سرحد مان لیا‘تنازع ختم ہو گیا‘ یمن اور سعودی عرب کے ساتھ بھی سرحدی تنازعے اسی طرح سیٹل کیے گئے‘ سلطان کہتے تھے ”ہم ہمسایوں کے ساتھ لڑ کر امن سے نہیں رہ سکیں گے“ چناں چہ یہ بڑے سے بڑا ایشو بھی گفتگو کے ذریعے حل کرتے تھے‘ سلطان قابوس کے دور میں اومان نے خود جنگ کی اور نہ یہ کسی جنگ کا حصہ بنا‘ یہ ملک ہر دور میں ثالث رہا‘ یہ متحارب گروپوں کے درمیان صلح کراتا رہا‘یہ اس وقت بھی یمن کے دو اطراف کے زخمیوں کا ایک ہی ہسپتال میں علاج کرتے ہیں۔

یہ میرٹ پر بھی بے انتہا یقین رکھتے تھے‘ اومان میں پچھلے پچاس برسوں میں تمام عہدوں پر صرف اور صرف اہل لوگوں کو تعینات کیا گیا اور وہ اہل لوگ خواہ سلطان کے دشمن ہی کیوں نہ ہوں انہیں کوئی نوکری اور ترقی سے نہیں روک سکتا تھا‘ تیسرا یہ انصاف اور عدل پر بھی کمپرومائز نہیں کرتے تھے‘ یہ ہو نہیں سکتا تھا ملک کا کوئی طاقت ور شخص کسی کم زور کا حق مار لے اور ریاست اس پر خاموش رہے‘ سلطان نے اربوں روپے کے پلازے اور زمینیں حق داروں کو واپس کرائیں اور اس عمل میں کسی کا دباﺅ قبول نہیں کیا۔

مسقط کے اندر الموج (ویوز) نام کا ایک وسیع رہائشی کمپاﺅنڈ ہے‘ یہ سمندر کے کنارے ہے اور یہ ہر لحاظ سے دوبئی لگتا ہے‘ یہ انٹرنیشنل کمیونٹی کا کمپاﺅنڈ ہے‘ آپ اس میں داخل ہوں آپ کو محسوس ہوگا آپ کسی عرب ملک کی بجائے یورپ میں پھر رہے ہیں‘ اسلامی دنیا کے زیادہ تر معزول حکمرانوں کے خاندان الموج میں رہتے ہیں‘ کرنل قذافی کی فیملی بھی یہاں رہتی ہے اور شام‘ یمن‘ عراق اور لبنان کے معزول حکمرانوں اور وزراءکے بچے بھی۔

سلطان قابوس حالات کے شکار حکمرانوں کے برے وقت کے ساتھی ثابت ہوتے تھے‘ یہ ہر لٹے پٹے حکمران اور اس کے خاندان کے لیے اپنے دروازے کھول دیتے تھے‘ شاید یہی وجہ ہے ان کے جنازے میں وہ تمام لوگ موجود تھے جنہیں پوری دنیا مل کر ایک جگہ نہیں بٹھا سکی‘ مصر کے مورسی اور السیسی دونوں گروپ ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں‘ یمن میں حوثیوں اور حکومت کے درمیان لڑائی چل رہی ہے‘ شام میں تین مختلف اسلامی طاقتیں ایک دوسرے کے سر اتار رہی ہیں اور ایران اور سعودی عرب کا تنازع بھی آخری سٹیج پر پہنچ چکا ہے مگر آپ سلطان قابوس کا کمال دیکھیے‘ ان سب طاقتوں کے سربراہ اور نمائندے سلطان کے جنازے میں موجود تھے۔

یہ سب مل کر ان کے درجات کی بلندی کی دعا کر رہے تھے‘آپ یہ دیکھیے اومان واحد عرب ملک ہے جس میں کوئی ولی عہد نہیں تھا‘ سلطان کے انتقال کے بعد ان کی وصیت کھولی گئی‘ سلطان نے ہیثم بن طارق السعید کو بادشاہ نامزدکیا تھا اور پورے خاندان اور ملک میں سے کسی نے چوں تک نہ کی‘ ہر شخص نے سلطان کے فیصلے پر آمین کہہ دی‘ پوری دنیا کا خیال تھا سلطان قابوس کے بعد تخت اور تاج کے ایشو پر اومان بکھر جائے گا لیکن سلطان کے اخلاص اور محبت نے انتقال کے بعد بھی ملک کو جوڑے رکھا۔

ملک میں کسی جگہ بغاوت ہوئی اور نہ شورش‘ کسی نے مخالفانہ آواز تک نہیں نکالی اور سلطان بلا کے مستقل مزاج بھی تھے‘ یہ جو کام شروع کر دیتے تھے یہ اسے پایہ تکمیل تک پہنچا کر دم لیتے تھے‘ یہ ہو نہیں سکتا تھا سلطان قابوس نے کوئی کام شروع کیا ہو اور وہ کام مکمل نہ ہوا ہو چناں چہ میں سمجھتا ہوں سلطان قابوس کی قبر صرف قبر نہیں یہ اسلامی دنیا کے تمام حکمرانوں کے لیے روشن مثال ہے اور یہ مثال ثابت کرتی ہے انسان اگر دنیا میں کچھ کرنا چاہے تو یہ پوری قوم کا مقدر بدل سکتا ہے اور اس کے جانے کے بعد اس مٹی کی چھوٹی سی ڈھیری دنیا کا سب سے بڑا مقبرہ بن سکتی ہے۔

لوگ اس کی کچی قبر کی مٹی کو سرمہ بنا لیتے ہیں اور سلطان قابوس زندہ تھے تو یہ کمال تھے‘ یہ انتقال فرما گئے تو یہ کمال سے بھی بڑا کمال بن گئے‘ یہ ثابت کر گئے لوگوں کی خدمت کرنے والے حکمران مزاروں اور مقبروں کے محتاج نہیں ہوتے‘ ان کی کچی قبریں بھی تاج محل سے بڑی اور قیمتی ہوتی ہیں

Aap Ka Bacha Kamyab Ho Sakta Hai By Qasim Ali Shah Pdf book

Download Link


:

Book Name: Aap Ka Bacha Kamyab Ho Sakta Hai

Author: Qasim Ali Shah

مصنف: قاسم علی شاہ تفصیل: قاسم علی شاہ کتاب آپ کا بچہ کامیاب ہو سکٹا ہے پی ڈی ایف کے مصنف ہیں۔ یہ پاکستان کے نامور ادیب اور ترغیب یافتہ اسپیکر کا ایک اور بیسٹ سیلر ہے۔ یہ کتاب آپ کے بچوں کی تربیت کے بارے میں ہے تاکہ وہ زندگی میں کامیاب ہوں۔ اس کتاب میں مصنف نے شاندار بچوں کی علامتوں کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ کامیاب بچے کی کچھ اچھی عادات ہوتی ہیں اور یہ عادات اسے مستقبل میں فخر بیٹا / بیٹی بناتی ہیں۔ اس کتاب کو پڑھنے سے ، ہر والدین اپنے پیاروں کی کامیابی کے راز جاننے کے قابل ہوجائیں گے۔

Tehqeeqat e Chishti By Noor Ahmad Chishti Pdf book

http://Download Link

Book Name: Tehqeeqat e Chishti

Writer: Noor Ahmad Chishti

تاریخ لاہور پر یہ عمدہ تحریر ہے جس میں بہت ساری چیزوں ، مقامات ، اسکالرز ، حکمرانوں اور مزارات کو بیان کیا گیا ہے۔ مصنف نے کتاب کا آغاز ہندو راج سے کیا اور پنجاب میں مسلمانوں کے داخلے کا ذکر کیا۔ اس نے غلام خاندان ، تغلق ، خلجی ، سعادت ، لودھی ، اور مغل حکمرانی کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے لاہور کی ترقی میں مسلمانوں کی خدمات پر تبصرہ کیا۔ جب مسلمانوں نے حکومت کا کنٹرول ختم کردیا تو سکھوں نے لاہور پر قبضہ کرلیا۔ مصنف نے لاہورhttp://irqam.com/encyclopedia-seerat-un-nabi-urdu-by-syed-irfan-pdf-book-downloud/

Hairat Angaiz Waqiat Urdu By M. Ibrahim Khan Pdf book

Download Link

یہ پوری دنیا میں کچھ عجیب و غریب واقعات کا مجموعہ ہے۔ ان واقعات کا کوئی منطقی یا سائنسی پہلو نہیں ہے۔ گHairat Angaiz Waqiat Urdu By M. Ibrahim Khan Pdf book محققین ان واقعات کی وجوہات تلاش کرنے میں ناکام رہے۔ مصنف نے برمودا مثلث ، آئس مین اور بہت سی دوسری چیزوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ایم ابراہیم خان ایک مصنف اور مترجم ہیں۔ انہوں نے کچھ عمدہ کتابیں تصنیف کیں اور ترجمہ بھی کیا۔ ان کے پاس انگریزی اور اردو زبانوں کی عمدہ کمانڈ ہے۔ ابراہیم خان کے متن میں کچھ انوکھی معلومات موجود ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ کو کتاب حیرت انگاز واقیعت پی ڈی ایف اچھی لگےی۔

Aik Lafz Kiyon By Muzammil Hussain Korai Pdf book downloud

Download Link

Aik Lafz Kiyon By Muzammil Hussain Korai Pdf book downloudہ ایک عمدہ ٹکنالوجی اور معروف علم ای بک ہے جس نے استفسار حل کے نمونوں پر مرتب کیا۔ مصنف نے ای بک میں وضاحت کے ل mind کچھ ذہن اڑانے والے سوالات اور عام اعدادوشمار کا انتخاب کیا۔ مزمل حسین کورائی سائنس محقق اور مصنف ہیں۔ انہوں نے باقاعدہ سائنس اور وسیع پیمانے پر مہارت سے متعلق کچھ قابل ذکر کتابیں تصنیف کیں جو طالب علموں اور عام قارئین کے لئے اسی طرح کارآمد ہیں۔ میری خواہش ہے کہ آپ ای بک آک لافز کیون پی ڈی ایف چاہتے ہو اور دوسروں کو بھی شئیر کریں

The Secret Urdu By Rhonda Byrne Pdf free book Download

Download Link

Book Name: The Secret Urdu
Writer: Rhonda Byrne

Translator: Ahlam Sundas
:انگریزی کی ایک مشہور کتاب کا اردو ترجمہ ہے۔ اس تحریر میں مصنف نے کارنامے کی پشت میں راز اور تکنیک کو بیان کیا ہے۔ انہوں نے اس سے آگے کے کچھ افسانوی قصوں کی کامیابیوں کی نشاندہی کی۔ انہوں نے آج کے بہت سارے مارکیٹرز کی طرز زندگی کا حوالہ دیا جنہوں نے ایک زبردست طریقہ کار کے ذریعے اپنے مقاصد کو انجام دیا۔ تخلیق کار نے بیان کیا کہ
The ebook Secret Urdu Pdf is an Urdu translation of a famous English book by means of Rhonda Byrne. In this writing, the author describes the secrets and techniques in the back of the achievement. He pointed out the achievements of a few legends of the beyond. He referred to the lifestyles of many marketers of today who carried out their goals thru a tremendous method.

Boltay Naqshay By Shaykh Abu Lubabah Shah Mansoor fdf

Download
Version 1 [80]

Boltay Naqshay By Shaykh Abu Lubabah Shah Mansoor fdf اردو زبان میں ہے جسے شیخ مفتی ابو لبابہ شاہ منصور نے تحریر کیا ہے۔ یہ ای کتاب غیر معمولی طلبہ کےذریعہ معروف کالم کا ایک مجموعہ ہے۔ جزاک اللہ بھی۔فتی ابو لبابہ شاہ منصور اسلام کے ممتاز عالم دین ہیں۔ وہ مسلمانوں کے مسائل کے بارے میں کچھ عمدہ کتابوں کے مصنف ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ کو اقصیٰ آنسو پی ڈی ایف کتاب اچھی لگے گی اور شئیر کی جائے گی۔

Raja Gidh Novel By Bano Qudsia Pdf BOOK Download

Read Online
Download Link

Book Name: Raja Gidh
Writer: Bano Qudsia

Description:
کتاب کا نام: راجہ گدھ مصنف: بانو قدسیہ تفصیل: بانو قدسیہ ای کتاب راجہ گدھ ناول کے مصنف ہیں۔ وہ اردو کی ایک اعلی درجے کی تخلیق کار ہیں جنھوں نے یادوں اور ناولوں پر درجنوں کتابیں لکھیں۔ بانو قدسیہ رشتے داروں کے ایک شاگرد حلقے اور اردو کے مشہور مصنف اشفاق احمد کی بیوہ سے تعلق رکھتی تھیں۔ یہ اردو زبان کی روایتی کہانی ہے۔ یہ ناول بانو قدسیہ کے لئے لازوال شہرت لاتا ہے۔ میری خواہش ہے کہ آپ ای بک راجہ گدھ ناول پی ڈی ایف چاہتے ہو اور اس کا تناسب اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر معاشرتی میڈی پر کریں

Guftagu By Wasif Ali Wasif Pdf BOOK FREE Download

Read Online
Download Link

کتاب کا نام: گفتگوGuftagu By Wasif Ali Wasif Pdf BOOK Download Free
مصنف: حضرت واصف علی واصف
تفصیل:
ای بک گفتگو پی ڈی ایف گفتگو اور تصوراتی بہترین مصنف حضرت واصف علی واصف کے کالموں کا مجموعہ ہے۔ ای بک گفٹاگو کا تخلیق کار ایک صوفی شاگرد ، غیر سیکولر انسٹرکٹر ، اور کالم نگار بن گیا۔ وہ اردو اور پنجابی زبان کے دانشور اور شاعر بن گئے۔ واصف اپنی مہافیوں اور کتابوں کے ذریعہ انسانوں کے لئے ترغیب دیتا ہے۔